امامت کے لیے قوم کی رضا کی اہمیت اور فاسق معلن کی امامت کا حکم
زید گاؤں آمد پور کی مسجد میں پڑھاتے ہیں تقریباً ۲ سال سے ۔ گاؤں کے لوگ امام نہیں بنائے ہیں بلکہ وہ خود امام بنے ہیں۔ اب وہ امامت کرتے ہیں اور وہ تجارت پیشہ بھی ہیں جب اس تجارت کے سلسلہ میں وہ جاتے ہیں تو چند روز نماز نہیں پڑھاتے جس سبب سے کچھ لوگ ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ہیں۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ ایسے امام کے پیچھے نماز جائز نہیں جو امام تجارت کرے اور اسلامی جماعت کے حامی بنے اور کچھ لوگ اس امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ لہذا لوگ ان سے خلاف ہیں تو وہ لوگ ان کو ہٹانا چاہتے ہیں لیکن وہ ہٹتے نہیں۔ بائیں باعث آپ مفتیان کرام سے التجا ہے کہ ان سوالوں کے جواب از روئے شرع عنایت فرمائیں۔ عین کرم ہوگا۔ المستفتی: محمد نے عرف ریاض الدین ساکن آمد پور پوسٹ خاص ضلع بدایوں ( یو پی )
الجواب: کسی جماعت کا امام بن جانا بغیر اس جماعت کی رضا کے شرعاً مذموم ہے۔ حدیث میں ہے: ثلاثة لا تجاوز صلوتهم أذانهم العبد الآبق حتى يرجع وامرأة باتت وزوجها عليها ساخط و امام قوم و هم له كارهون) یعنی تین آدمیوں کی نماز ان کے کانوں سے ایک ہاتھ نہیں بلند ہوتی اور ان میں اسے شمار کیا جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اسے امامت کے لئے پسند نہ کرتے ہوں ۔اور یہاں جماعت کے تنفر کا سبب موجود کہ وہ بسلسلہ تجارت غائب بھی رہتا ہے پھر اگر واقعی یہ ثابت ومشہور ہے کہ وہ جماعت اسلامی کا حامی ہے تو ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ سخت فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے اور نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ غنیتہ میں ہے: لوقدموافاسقاياثمون“(۲) (1) (۲) مشكوة المصابيح، ص ۱۰۰، باب الامامة، مجلس برکات / ترمذی شریف، کتاب الصلوۃ، باب ماجاء من ام قوما و هم له كارهون، ج ۱، ص ۴۷ ، مجلس بركات غنية المستملى شرح منية المصلی، ص ۵۱۳ ، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (1) اور یہ جبکہ محض میل جول تک محدود ہے ورنہ اگر ان کے عقائد کفریہ ملعونہ کی حمایت کرتا ان سے راضی ان کا مبلغ ہے تو خود انہیں کی رسی میں گرفتار ہے، اس کے پیچھے نماز درست ہی نہیں ۔ در مختار میں ہے: وان انكر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر بها فلا يصح الاقتداء به اصلا(۲) اسلامی جماعت کے عقائد کفریہ کے لئے مودودی کا الٹا مذ ہب دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ الجواب صحیح وصواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۵ / رجب المرجب ۱۳۹۶ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی