فاسق کے یہاں بے عذر شرعی کھانا پینا جائز نہیں!
فاسق کے یہاں بے عذر شرعی کھانا پینا جائز نہیں! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: امام صاحب کا کہنا ہے کہ مجھے تین قسم کے آدمیوں کے یہاں کھانے سے بچائے رکھنا۔ ایک سود خور، دوسرا وہ شخص جس نے طلاق دے کر بغیر تجدید نکاح کے رکھا ہو، تیسر اوہ شخص جو دلالی کرتا ہے۔اب جنکے یہاں امام صاحب کھانا کھا رہے ہیں، انمیں شرابی بھی ہیں، اسمگلر بھی ہیں (بلیک کرنے والے ہیں ) اور کم تولنے والے بھی ہیں۔ زکوۃ کم کر کے نکالنے والے بھی ہیں اور زکوۃ بالکل نہ دینے والے، ان میں سے کچھ کا امام صاحب کو علم بھی ہے، اس کے باوجود امام صاحب ان کے یہاں کھاتے ہیں ۔ اب امام صاحب پر کیا شرعی قانون نافذ ہوتا ہے؟ واضح فرمائیے ۔ نوازش ہوگی!
الجواب: شرابی اور اس کے مثل فاسق و فاجر کے یہاں بے ضرورت شرعیہ و بے غرض صحیح شرعی کھانا پینا اُٹھنا بیٹھنا نا جائز ہے۔ قال تعالیٰ: وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ. شیطان اگر تجھ کو بھلا دے تو ظالموں کے ساتھ یاد آنے پر نہ بیٹھ۔ تفسیرات احمد یہ میں ہے: ،، الظالمين يعم الكافر والفاسق والمبتدع والقعود مع كلهم ممتنع (۲) امام مذکور اگر به ضرورت شرعیه یا به غرض صحیح شرعی مثلاً اس نیت سے ان کے یہاں کھاتے ہیں کہ میری بدولت ایسے لوگ منکرات سے بچیں گے اور خیرات کی طرف راغب ہوں گے تو ان پر الزام نہیں ور نہ ضرور ملزم ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله