داڑھی کٹانے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم اور انگریزی بال رکھنے والے کی امامت
نماز کے خلاف سنت ہونے یا نہ ہونے میں کیا شرعی حکم ہے؟ جواب میں طوال مفصل اور اوساط مفضل کے بجاۓ آیتوں کی تعداد لکھی جائے ۔ (۳) اگر کسی امام میں یہ نقص ہو کہ وہ انگریزی بال رکھتا ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا بہتر ہے یا نہیں؟ المستفتی: عبد الحنان، قاضی پور خرده ضلع گورکپور/ ۲۸ محرم الحرام ۵۱۳۹۸
الجواب: (۱) داڑھی کی مقدار ایک مشت ہے، اس سے کم کر انا حرام اور اس کی عادت کبیرہ گناہ بد کام بدانجام ہے اور اس کا مرتکب و عادی فاسق معلن ہے اسے امام بنانا گناہ اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے۔ غنیہ میں ہے: “لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (1)“ در مختار میں ہے: “کل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) اسی میں ہے: “و يحرم على الرجل قطع لحيته (۳)“ اسی میں ہے: “والسنة فيها القبضة “(۲) نیز اسی میں ہے: “اما الأخذ منها وهى دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة و مخنثة الرجال فلم يبحه احد وأخذ كلها فعليهود الهندومجوس الأعاجم (ه)“ (1) غنية المستملى شرح منية المصلی ، ص ۵۱۳، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی (٢) الدر المختار ج ۲، ص ۱۴۷ ، ۱۴۸، کتاب الصلوة، باب صفة الصلوة، مطبع دار الكتب العلمية، بيروت (۳) الدر المختار ج ۹، ص ۵۸۳ ، کتاب الحظر والاباحة باب الاستبراء وغيره، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) الدر المختار، ج ۹، ص ۵۸۳ ، کتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء وغيره، دار الكتب العلمية، بيروت (۵) الدر المختار، ج ۳، ص ۳۹۸، کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، دار الكتب العلمية، بيروت ایسا شخص بعد تو بہ تاظهور صلاح حال امامت سے موقوف رکھا جائے گا۔ ہندیہ میں ہے: ”الفاسق اذا تاب لا تقبل شهادته مالم يمض عليه زمان يظهر عليه اثر التوبة والصحيح أن ذلك مفوض الى رأى القاضی (۱) اس کے بجائے کسی سنی صحیح العقیدہ لائق امامت کو امام کیا جائے۔ کسی وہابی دیو بندی کو ہرگز امام نہ کریں کہ وہ بدتر ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل محض ۔ فتح القدیر میں ہے: ان الصلؤة خلف اهل الاهواءلاتجوز “(۲) اسی میں ہے: ”لا تجوز الصلوۃ خلف منكر الشفاعةلانه كافر‘ملخصاً(۳) کفایہ میں ہے: ” و الکافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل () بلکہ انہیں دانستہ امام کرنا کفر ۔ ،، در مختار میں ہے: ” تبجیل الکافر کفر (ه) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اوساط مفصل کی سورتیں یا ان کی مقدار یہ ہے کہ پندرہ سترہ یا اس سے زائد آیتیں پڑھنا مسنون ہے اور اس سے کم کرنا ضرور خلاف سنت ہے، فجر میں ۴۰ آیتیں پڑھنا مسنون ہے اور اس سے کم پڑھنا خلاف سنت ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بہتر نہیں۔ جبکہ حاضرین میں اس سے افضل موجود ہو اور اگر وہی لائق امامت ہو تو امامت وہی کرے گا مگر یہ بری وضع ہے، اسے چھوڑنا چاہئے اور صلحاء کی وضع اختیار کرنا چاہئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ یکم صفرالمظفر ۱۳۹۸ھ/ ۱۱/جنوری ۱۹۷۸ء (1) الفتاوى الهنديه ، ج ۳، ص ۴۰۲ کتاب الشهادات، باب فيمن لا تقبل شهادته لفسقه، دار الفکر بیروت (2) فتح القدير ، ج 1 ، ص ۳۶۰ ، كتاب الصلوة، باب الامامة ، بركات رضا (۳) فتح القدير، ج ۱، ص ۳۶۰، کتاب الصلوة باب الامامة بركات رضا (۴) کفایه ج ۱ ص ۳۲۴ کتاب الصلوة باب الامامة دار احياء التراث العربي (۵) در مختار ج ۹، ص ۵۹۲ باب الاستبراء دار الكتب العلميه، بيروت