ندوی، دیوبندی اور جماعت اسلامی کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: دیو بندی یا ندوی یا جماعت اسلامی یا صلح کلی یا ایساسنی جو ہر مسلک کے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھتا ہو یا ہر مسلک کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز سمجھتا ہو، ایک بریلوی مسلک کے ماننے والوں کی نماز مذکورہ بالا مولوی کے پیچھے ہوگی یا نہیں ؟ مدلل و مفصل بیان کریں گے۔ فقط والسلام المستفتی: محمد سلیمان ، مدرس مدرسہ اسلامیہ، اورنگ آباد، بہار
ندوہ والوں پر علمائے حرمین نے کفر کا فتویٰ صادر فرمایا ! جماعت اسلامی بھی انہی کی طرح مرتد ہے ! مرتد کو امام بنانا ہرگز جائز نہیں! جو ضروریات دین میں سے کسی کا منکر ہو، اس کے پیچھے نماز نہیں کافر پر نماز فرض نہیں! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۸ ذی قعده ۱۴۰۶ھ الجواب: و یا نہ مرتدین ہیں ۔ خدا اور سول کی صریح تو ہین لکھ کر چھاپ کر وہ علمائے حرمین شریفین سے اپنے کفر کا ایسا سرٹفکیٹ لے چکے کہ جو اُن کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ ندوہ والوں پر بھی علمائے حرمین نے ان کے کفریات کے سبب کفر کا فتویٰ صادر فرمایا۔ دیکھئے فتاوی الحرمین برجف ندوۃ المین“ اور نام نہاد جماعت اسلامی ان دونوں کو مسلمان سمجھتی ہے تو یہ بھی انہیں کی رسی میں گرفتار ہے اور جو نام کاسنی ایسوں کے پیچھے دانستہ نماز پڑھے اور ان کی اقتدا جائز بتائے وہ بھی انہیں میں سے ہے۔ لہذا ان میں سے کسی کو امام بنا نا ہرگز جائز نہیں ۔ اور ان کی اقتداء میں نماز باطل محض ہے کہ سرے سے ہوگی ہی نہیں۔ در مختار میں ہے: وان انکر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر بها فلا يصح الاقتداء به اصلا (۱) کفایہ میں ہے: والكافرلاصلاةله فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ رصفر المظفر ۱۳۹۹ھ صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی