دیوبندی وہابی امام کے پیچھے نماز اور ترجیح امامت کے مسائل
لیتے ہیں، ان کے لئے کیا حکم ہے؟ (۳) عید کی نماز مسجد بلال میں ایک دیوبندی وہابی امام نے پڑھائی سنی مسلمانوں کو بعد میں معلوم ہوا کہ امام صاحب دیوبندی وہابی تھے جن لوگوں نے نماز پڑھ لی وہ کیا کریں؟ (۴) نماز تراویح ایک دیو بندی حافظ نے پڑھائی اور سنی مسلمانوں نے پڑھی ۔ نماز ہوئی کہ نہیں؟ اور جن لوگوں نے جان بوجھ کر پڑھیں ان کے لئے کیا حکم ہے؟ اور جن لوگوں نے انجانے میں پڑھیں وہ کیا کریں؟ (۵) نماز کے وقت مسجد میں عالم دین قاری قرآن حافظ قرآن سبھی موجود ہوں تو امامت کون کرے؟ کس کی امامت افضل ہے؟ (1) غیر قاری کے پیچھے قاری قرآن کی نماز ہو جاتی ہے کہ نہیں؟ (۷) ایک سنی مسلمان ملک عرب کے ایک شہر میں رہتا ہے، کوئی ایسی مسجد نہیں ہے کہ جس میں سنی امام ہو، اب ایسی صورت میں نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ کیسے ادا کرے؟ دیوبندی امام کے پیچھے پڑھے یا نہ پڑھے؟ اور جمعہ کی نماز کیسے پڑھے؟
الجواب: المستفتی جمیل احمد قادری معرفت قاری عبدالجلیل حبیبی قادری ریسٹورنٹ ، روڈ ویز بس اسٹیشن، فیض آباد(یوپی) (1) دیوبندی وہابی عقائد کفریہ رکھتے ہیں اور بائیں وجہ وہ کا فربے دین ہیں ایسے کہ علماء حرمین شریفین ومصرو ہندوسندھ نے یک زبان ہو کر فرمایا کہ جو دانستہ ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی قطعی کا فر ہے۔ دیکھو حسام الحرمین، الصوارم الہندیہ۔ اور کافر کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ کفایہ میں ہے: والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (1) اور دانستہ ایسے کو امام بنانا ایمان کھونا ہے۔ اس لئے کہ یہ کافر کی تعظیم ہے اور کافر کی تعظیم کفر ہے۔ در مختار میں ہے: تبجیل الکافر کفر (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اس پر تو بہ و تجدید ایمان وغیرہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جبکہ انہیں خبر نہ تھی تو ان پر الزام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نماز نہ ہوئی اور دانستہ پڑھنے والوں پر تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے اور جو ناواقف تھے ان پر مواخذہ نہیں۔ واللہ تعالی اعلم (۵) عالم دین کو مقدم کرنا چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) ہو جائے گی بشر طیکہ اس قدر درستگی قرآت پر قادر ہو جتنی صحت نماز کے لئے ضروری ہے ورنہ نہ ہوگی۔ واللہ تعالی اعلم (۷) بد عقیدوں کو امام نہ بنائیں، نمازیں تنہا پڑھیں یا کوئی سنی صحیح العقیدہ جامع شرائط امامت ملے تو اسے امام بنائیں اور جمعہ کے بجائے ظہر پڑھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم