خطبہ میں ذکر اہل بیت سے گریز اور ثبوتِ قرآن پر سوال اٹھانے والے امام کا شرعی حکم
ماہ رمضان شریف بہ سلسلہ تراویح ایک مقام پر میرا گزر ہوا جہاں پر میرے لڑکے بھی ملازم ہیں ۔ اس مسجد کے پیش امام صاحب اپنے کو عالم کہتے ہیں ۶ / جمعہ تک میں نے یہ بات دیکھی کہ خطبہ علمی رکھا ہوا ہے جو مدت دراز سے پورے ہندوستان میں پڑھا جاتا ہے اس خطبہ کو پیش امام صاحب نہیں پڑھتے ، اپنی ذاتی لیاقت سے خود ساختہ خطبہ پڑھتے ہیں۔ مگر سر کار دو عالم تاجدار مدینہ کے نواسوں کا نام جو سردار جنت ہیں، ان کا نام شامل خطبہ نہیں کرتے۔ چھ جمعہ تک یہی بات دیکھی بعد جمعہ تخلیہ میں پیش امام صاحب سے کہا کہ آپ سرکار دو عالم کے نواسوں کے نام خطبہ میں نہیں پڑھتے ہیں اس کا کیا سبب ہے؟ اور خطبہ علمی رکھا اس کو آپ کیوں نہیں پڑھتے جس میں کہ ان کا نام شریک خطبہ ہے۔ پیش امام صاحب نے کچھ مخالفت زبان سے کی، میں نے ڈانٹ کر کہا: کیا؟ اس پر پیش امام صاحب نے کہا ارے صاحب ان کو میں بھی مانتا ہوں، میں نے کہا جب رائج شدہ خطبہ علمی رکھا ہے اس کو پڑھا کیجئے ، مجھ سے وعدہ کیا کہ میں آئندہ سے پڑھا کروں گا، میں ڈیڑھ ماہ تک وہاں رہا ، برابر وعدہ کرتے رہے مگر خطبہ علمی نہیں پڑھا۔ اس بات سے صاف ظاہر ہے کہ تاجدار مدینہ کے نواسوں سے دلی کدورت رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے حسب وعدہ وہ نہیں پڑھتے اور یہاں وہ سالہا سال سے پیش امام ہیں ۔ اس طرح نواسوں کا نام مدت مذکور سے نہیں پڑھا گیا۔ اس اثنا میں حدیث شریف کا تذکرہ کیا۔ میں نے کہا کہ میں اسی حدیث کو مانتا ہوں جو قرآن شریف سے مطابقت کرتی ہے، خلاف قرآن کوئی حدیث میرے نزدیک ماننے کے لائق نہیں ۔ پیش امام صاحب نے کہا کہ یہ بتلائیے کہ قرآن شریف کا کیا ثبوت ہے کہ قرآن اللہ کا بھیجا ہوا ہے؟ میں نے ان کو معقول جواب دیا لیکن وہ طویل بحث کرتے رہے بالآخر میں نے ان سے کہا: بغیر کسی بحث کے میرا یقین اور ایمان ہے کہ قرآن اللہ کا بھیجا ہوا ہے۔ براہ کرم امور متذکرہ بالا کے واقعات پر کافی غور فرماتے ہوئے مطلع فرما یا جاوے کہ اس پیش امام کو جوسرکار دو عالم کے نواسوں اور قرآن کے عقیدے کے خلاف ہو ، قابل پیش امام ہیں یا نہیں؟ اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اور جولوگ ان کے معتقد ہوں ، وہ لوگ کیسے ہیں؟ مجھ کو روحی تکلیف ہے براہ کرم جلد از جلد مطلع فرما کر مشکور فرماویں۔ المستفتی: حاجی معتبر علی موضع بیلی پور ڈاکخانہ شمس آباد ضلع الہ آباد
الجواب: حسنین کریمین صلوات اللہ تعالیٰ علیٰ جد ہما النبی الکریم وعلی ابو یہما کا نام نامی لینا خطبہ میں مستحب ہے اور جملہ دیار و امصار میں صدیوں سے رائج ہے اس کے ترک پر اصرار خالی از علت نہیں اور پھر مخالفت تو کھلی دلیل بدمذہبی کی ہے۔ ایسے کی اقتدا سے شدید احتر از لازم اور اب تک جتنی نمازیں اس کے پیچھے پڑھیں ان کا اعادہ واجب ہے اور آپ نے یہ کہا کہ اسی حدیث کو مانتا ہوں جو قرآن شریف سے مطابقت کرتی ہے خلاف قرآن کوئی حدیث میرے نزدیک ماننے کے لائق نہیں ۔ حدیث سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول و فعل اور ان کی تقریر ہے ( یعنی کسی کو کچھ کہتے یا کرتے دیکھیں تو منع نہیں فرمائیں، اسے تقریر کہتے ہیں) اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیث بہ نص قرآن وحی ہے۔ قرآن فرماتا ہے: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يُوحَى )) تو حدیث نبوی مخالفت قرآن سے محفوظ و مامون ہے اور یہ جملہ مندرجہ بالا اس کا انکار ہے جس سے تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے اور شادی شدہ ہوں تو تجدید نکاح بھی کر لیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ (1) سورة النجم : ۳، ۴