داڑھی کم کرنے والے، سیاہ خضاب لگانے والے اور سجدے میں پاؤں کی انگلیاں نہ لگانے والے کی امامت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان مسائل میں کہ: (1) امام مسجد ایک مشت سے کم داڑھی رکھتا ہے۔ (۲) اور داڑھی میں سیاہ خضاب لگاتا ہے۔ (۴) سجدے میں جانے سے قبل پانجامے کو اٹھالیتا ہے۔ (۵) سجدے میں پاؤں کی انگلیاں صحیح نہیں لگا تا اور کتنی انگلیاں واجب ہے؟ مندرجہ بالا صورتوں میں امام کے پیچھے جماعت پنجوقتہ اور جمعہ وعیدین وغیرہ ادا کریں گے یا نہیں؟ المستفتی: محمد سکند رولد جان محمد، ساکن صرافہ بازار، (کراچی)
الجواب: فی الواقع اگر امام مذکور کی طرف ان تمام یا ان میں سے کوئی امور مندرجہ کی نسبت صحیح ہے اور شرعی طور پر ثابت ہے تو وہ فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہوگی ۔ غنیہ میں ہے: لوقدموا فاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (1) اور اگر سجدے میں ایک انگلی کا پیٹ بھی نہیں لگتا تو اصلاً نماز ہی نہیں ہوگی اور اس صورت میں اس کی اقتد اباطل محض ہے۔ در مختار میں ہے: ”وفيه يفترض وضع اصابع القدم ولو واحدة نحو القبلة والالم تجز والناس عنه غافلون (٢) (1) (۲) غنية المستملى شرح منية المصلى، ص ۵۱۳، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی الدر المختار، ج ۲، ص ۲۰۴ ، كتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، دار الكتب العلمية، بيروت اور اگرا اکثر انگلیوں کے پیٹ نہیں لگتے تو تارک واجب ہے اور اقتدا کا وہی حکم یعنی مکروہ تحریمی اور تمام انگلیوں کا پیٹ لگانا سنت ہے تو اکثر انگلیوں کے پیٹ لگیں اور دو یا ایک کے نہ لگیں تو ترک سنت ہوگا اور ایک دو بار ایسا ہو تو اسائت و ملامت ہے اور عادت ہو تو گناہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۰ رصفر المظفر ۱۴۰۶