وعدہ خلافی، بد اخلاقی اور معصیت میں مبتلا شخص کی امامت اور اس کو سلام کرنے کا حکم
ہے اور باقاعدہ چھلا پہنا دیا اور پان مٹھائی لے لی ہے پھر کئی مہینہ آمد ورفت جاری رہی اور اپنی زبان سے آسرا دیتے رہے اسی دوران میں دوسری جگہ دوسرے لڑکے کے ساتھ اسی لڑکی کی شادی طے کر دی اور اپنی زبان کی کوئی وقعت نہ رکھی اور جب دوسرے لڑکے کے گھر سے رسم مٹھائی ادا ہوئی خوب ڈھول بجایا صرف اتنا بچاؤ کیا کہ بجائے اپنے گھر کے اپنے بھائی کے گھر میں بجوایا جس میں ان کی بیوی اور تمامی عورتیں شریک ہوئیں ان تمام باتوں پر نظر کرتے ہوئے فرما ئیں کہ ہم لوگ ان سے سلام کلام کریں کہ نہ کریں اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ؟ فقط ! خادم : احمد حسین خاں، ساکن شیر پور، پیلی بھیت
الجواب: شخص مذکور سخت فاسق و فاجر فاحش بدگو بداطوار بدمعاملہ مستحق نار ہے۔ ستر کھولنا حرام ہے اور ڈالی لینا بلاشبہ منع ہے بلکہ اگر باغ کے پھل نمایاں ہونے سے پہلے بیچا ہے تو یہ بیع باطل ہے کہ یہ معدوم کی بیع ہوئی اور وہ شرعاً ممنوع ہے اور بات طے کر کے پھر جانا کبیرہ گناہ ہے جبکہ بے وجہ شرعی ہو اور باجے حرام ایسے شخص سے ابتدائے سلام اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا، اسے امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔ در مختار میں ہے: ویکرہ السلام على الفاسق لو معلنا )) (1) ،، اسی میں ہے : كل صلاۃ ادیت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) غنیہ میں ہے: ”لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (۳) واللہ تعالیٰ اعلم نوٹ: پہلے سے نیت وفا کی نہ ہو اور اگر نیت وفا کی تھی بعد میں کوئی سبب معقول و مقبول مانع نکاح ہو گیا تو اس پر حرج نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی