قبر کو سجدہ اور طواف کرنے والے کی امامت اور اس کے پیچھے نماز کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک شخص نے اپنی زندگی میں اپنی قبر کے لئے پختہ عمارت وغیرہ بنوایا تھا مرنے کے بعد اس کو اس میں دفن کیا گیا، اس کے بعد یہاں والوں نے اس مرد کا با قاعدہ طواف کرنا شروع کر دیا اس کے حلقہ اثر کے لوگ روزانہ بلاناغہ قبر کا با قاعدہ سات چکروں میں طواف، صبح و شام سجدہ کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا فعل کرنے والوں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ از روئے شرع ان کی امامت درست ہے یا نہیں؟ جواب باصواب سے نوازا جائے ۔ فقط والسلام لمستفتی محمد عیسی وشیه محمد صاحبان ساکنان : شہر گونڈہ (اتر پردیش)
قبر کو سجد ہ وطواف ناجائز ہے، ایسا کرنے والا امام نہیں ہو سکتا افاسق کو امام بنانے والے گنہ گار ہیں ! بہ کراہت پڑھی گئی نمازیں پھر سے پڑھی جب میں طواف کعبہ کی خصوصیتوں میں سے ہے، انبیا و اولیاء کی قبر کا طواف بھی جائز نہیں اجو عامتہ المسلمین کرتے ہیں اس کا اعتبار نہیں گرچہ وہ علماء لگتے ہوں! الجواب: قبر کو سجدہ اور طواف ناجائز وممنوع ہے جو لوگ ایسا کرتے ہیں سخت گنہ گار ہیں ، انہیں امام بنانا گناہ اور ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب۔ غنیہ میں ہے: (لوقدموافاسقاياثمون) در مختار میں ہے: ،،كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) سجدہ تعظیمی کی حرمت پر سیدنا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا رسالہ مبارکہ ”زبدة الذكية‘ کافی وافی ہے،اسے دیکھئے۔ طواف کی حرمت کا جزئیہ ملاعلی قاری علیہ الرحمتہ کے مسلک متقسط میں ہے: الطواف من مختصات الكعبة المنيفة فيحرم حول قبور الانبياء والأولياء ولا عبرة بما يفعله العامة الجهلة ولوكانوا فى صورةالمشائخ والعلماء (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۸ رذی قعدہ ۱۳۹۷ھ