مرگی کے مریض کی امامت، ذبح کی اجرت اور سودی معاملات کرنے والے کی امامت کا حکم
امام صاحب ہمیشہ کے ذائع ہیں، بے حد اجرت لیتے ہیں، ان کی امامت جائز ہوتی ہے یا نہیں؟
الجواب: المستقلانی : عاصی محمد غوث ، کنڈی بیٹے اجرت جو باہمی رضامندی سے طے ہو جائے اس میں حرج نہیں ۔ سود کا معاملہ اگر مسلمان مسلمان سے کرتا ہے اور یہ اس کے کاغذات لکھتا ہے تو سخت گنہ گار سحق لعنت کردگار مستوجب عذاب نار ہے اور امامت اس کی مکروہ تحریمی ہے۔ حدیث میں ہے: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم اکل الربواوموكله وشاهديه وكاتبه (۱) اور اگر یہ معاملہ مسلمان اور کافر سے ہوتا ہے اور مسلمان زیادتی لیتا ہے تو وہ سود نہیں ، تو اس پر الزام نہیں کہ مسلمان اور حربی کافر کے درمیان سود نہیں ہوتا اور تفصیل کے لئے رسالہ بینک اور ڈاکخانہ کے منافع کا شرعی حکم ، قادری بکڈپو، نو محلہ مسجد ، بریلی سے منگا کر دیکھیں ۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی