بغیر شرعی عذر کے امام کی معزولی اور وسیلہ کے جواز کے بارے میں
(1) ایک قاری صاحب کو جماعت کے تین چار لوگوں نے امامت سے الگ کر دیا ، بغیر کسی شرعی عذر کے ،صرف اس بات پر کہ قاری صاحب شجرہ عالیہ فجر کی نماز کے بعد دعاء میں پڑھتے تھے۔ معترض نے کہا: ”میرے مولا حضرت احمد رضا کے واسطے“ کیوں کہتے ہو، ہم کو مشرک کر دیا ، بدعتی بنادیا۔ قاری صاحب سے کہا: آپ شجرہ نہیں پڑھ سکتے۔ انہوں نے کہا: میں شجرہ پڑھوں گا۔ معترض دوسرا مولوی لے آئے جو امامت کر رہے ہیں اور بچوں کو تعلیم بھی دیتے ہیں، علم تجوید سے بالکل واقف نہیں، مقتدی اس بات کے بہت شکی ہیں کہ نماز صحیح نہیں پڑھاتے ، قرآن شریف غلط پڑھتے ہیں۔ مولوی صاحب کہتے ہیں: میں تو سیاست سے کام لیتا ہوں، سید صاحب جو امامت کرتے تھے انہوں نے سیاست سے کام نہیں لیا۔ (۲) مولوی مذکور کا بیان ہے کہ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام جنتیوں کے سردار ہوں گے، علاوہ پانچ کے : حضور صلی اللہ علیہ وسلم ، آدم علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام ، ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ (۳) مولوی مذکور نے جلسہ میں لاؤڈ اسپیکر پر بیان کیا کہ بعض لوگ ایسے بھی ولی ہوتے ہیں کہ نہ صحابیوں میں سے ہوتے ہیں نہ تابعین نہ تبع تابعین نہ مولوی نہ حافظ جیسے کہ غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ از روئے شریعت مولوی مذکور کے واسطے کیا حکم ہے؟ جواب سے مطلع فرمائیں! المستفتی: محمد عارف علی ، ساکن گردھر پورضلع بریلی (یوپی)
الجواب: (1) امام مذکور کو بے وجہ شرعی معزول کرنا سخت ہولناک جرم بدترین ظلم ہے۔ شرعاً وہ امام معزول نہیں ۔ درمختار میں ہے: لا يصح عزل صاحب وظيفة بلاجنحة (1) اورسوال میں امام مذکور پر جو اعتراض معترضین کا درج ہوا وہ ہرگز صحیح نہیں ، بزرگان دین کے وسیلہ سے دعا بلاشبہہ جائز و مستحسن ہے اور سلف وخلف کا معمل بہ ورائج ہے، اسے شرک و بدعت بتانا وہابیہ کی جہالت ہے بلکہ خدائے قہار پر حکم شرک لگانا ہے کہ بزرگوں کے واسطے سے دعا مانگنے کا حکم اس (1) الدر المختار، ج ۶، ص ۵۸۱، کتاب الوقف ، دار الكتب العلمية، بيروت احکم الحاکمین نے فرمایا ہے۔ ارشاد باری ہے: وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ شفاء العلیل میں مولوی خرم علی بلہوری مستند جملہ وہابیہ نے مولانا شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی سے حکایت کیا کہ ان کے دادا شاہ عبد الرحیم صاحب نے آیت کریمہ میں وسیلہ سے مراد بیعت مرشد بتائی ، ان معترضین سے پوچھا جائے کہ تمہارے طور پر مولوی خرم علی اور مولانا شاہ عبد العزیز صاحب اور ان کے دادا شاہ عبد الرحیم صاحب مشرک ہوئے کہ نہیں ؟ اور جب وہ مشرک ہوئے تو سارے وہابی مشرک ہوئے ولا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ بالجملہ امام مذکور کو معزول کرنا شرعاً نا درست ہے۔ مقتدیوں پر لازم ہے کہ اسے بحال کریں اور دوسرا امام نالائق امامت ہے اسے برطرف کیا جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) حدیث میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ حسنین کریمین جنتی جوانوں کے سردار ہیں، امام مذکور کا یہ استثناء اس کی اختراع ہے جس سے لازم آیا کہ حسنین کریمین عمر وعثمان و باقی عشرہ مبشرہ کے بھی سردار ہوں گے اور یہ عقیدہ اہل سنت کے خلاف ہے کہ عقیدہ اہل سنت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد چاروں خلفا ء پھر باقی عشرہ مبشرہ پھر جملہ صحابہ کرام تمام امت سے افضل ہیں بلکہ اس کا یہ مقولہ بہت سے انبیاء سابقین پرحسنین کریمین کی فضیلت کی تصریح کرتا ہے جو صریح کفر ہے، اس پر اس سے تو بہ وتجدید ایمان وتجدید نکاح لازم ہے اور اس کی اقتداء ب تو بہ صحیحہ باطل و حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اس کا یہ مقولہ بھی سراسر جہالت اور سیدنا غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صریح تو ہین پر مشتمل ہے اور یہ اس کا صریح بہتان ہے، کوئی جاہل ہرگز ولی نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں ہے: ”ما اتخذ الله ولياجاهلا“ اور سید ناغوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر گز جاہل نہ تھے بلکہ مقتدائے علمائے ظاہر و باطن تھے علم باطن میں ان کی شان بلند کو اولیاء و عرفا ء ہی سمجھیں ظاہر میں حضرت کی یہ شان تھی کہ جنیلی و شافعی دونوں مذہب سے آپ بدرجہ اتم واقف تھے اور دونوں پر فتویٰ دیتے تھے، وہ شخص وہابی بددین معلوم ہوتا ہے کہ تو ہین اولیا اسی گروہ کا شیوہ ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی