صحابہ کرام سے سوئے ظن رکھنے والے کی اقتدا میں نماز کا حکم اور اسے فروعی مسئلہ کہنے کا رد
حضرت سفیان و حضرت ہندہ و حضرت امیر معاویہ و حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے سوئے ظن رکھنے والے کی اقتدا میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ زید کا قول ہے کہ مذکور حضرات سے حسن ظن رکھے یا سوئے ظن، یہ امر ایمان سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ مسئلہ فروعی ہے۔ کیا زید کا قول صحیح ہے؟
الجواب: حضرات صحابہ سے سوئے ظن رکھنے والا بدعتی گمراہ ہے اور گمراہوں کے پیچھے نماز پڑھنا نا جائز و گناہ ہے۔ فتح القدیر میں سید نا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: ان الصلاة خلف اهل الاهواء لاتجوز (1) ایسوں کے پیچھے نماز جائز بتانا اور اسے فرعی مسئلہ کہنا قائل کی نادانی ہے اور اگر عناداً کہتا ہے تو بلاشبہ گمراہ ہے۔ صحابہ کی محبت اور تعظیم اور انہیں طعن وتشنیع سے مامون کرناضروریات اہل سنت سے ہے۔ حدیث میں ہے: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، انہیں میرے بعد نشانہ نہ بناؤ کہ جس نے اُن سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے عداوت رکھی اس نے مجھ سے عداوت رکھی اور جس نے مجھ سے عداوت رکھی اس نے اللہ کو ناراض کیا تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑے (۲) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی