مرتد کے پیچھے نماز پڑھنے والے کا حکم اور یا محمد پکارنے کا مسئلہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: (1) زید کی صحیح العقیدہ عالم دین ہے، بکر دیو بندی گر ہے اکابر دیو بند کو کا فرنہیں کہتا بلکہ جب اکابر دیو بند کا نام آتا ہے تو رحمہ اللہ کہتا ہے، علم غیب مصطفیٰ کا منکر ہے ،حضور کو حاضر و ناظر نہیں مانتا نیز سنیوں پر یہ الزام لگاتا ہے کہ اکابر دیو بند نے کفر نہیں کیا بلکہ ان پر بہتان لگایا گیا ہے اور جو اُن کو کافر کہے وہ دوغلا اور گندگی کھانے والا ہے۔ جہاں جیسا دیکھتا ہے ویسا کرتا ہے۔ زید نے عمداً یہ سب جانتے ہوئے کہ بکر ایسا ہے، بکر کے پیچھے نماز پڑھی تو زید کے لئے از روئے شرع کیا حکم ہے؟ زید کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ قرآن وحدیث سے جواب دیں۔ (۲) یا محمد کہنا جائز ہے یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ناجائز ہے؟ حالانکہ حضرت مولانا مفتی محبوب علی صاحب نے اپنی کتاب ”نور کی تفسیر میں جو سلام بحضور سید الانام صلی اللہ علیہ وسلم لکھا ہے: یا نبی یا محمد یا عروس الخافقین اس کی کیا وجہ ہوگی ؟ المستفتی محمدعبدالشکور متعلم مدرسه منظر اسلام، التفات گنج ضلع فیض آباد (یوپی)
مرتد کے پیچھے نماز پڑھنے والے کا حکم ! کافر پر نماز فرض نہیں اور جس پر نماز فرض نہیں اس کی اقتدا باطل محض! کافر کی تعظیم کفر ہے! کفر اتفاقی سے عمل دنکاح باطل ہو جاتے ہیں، اسے تو بہ وتجدید ایمان و نکاح کا حکم دیا جائے ! بد عقیدوں کے پیچھے پڑھی گئی نمازوں کا اعادہ ضروری ہے، ان کی اقتدا کرنے والا بے تو بہ لائق امامت نہیں ! یا محمد کہنا جائز نہیں، صحابہ کرام بھی یا رسول اللہ کہہ کر پکارتے تھے ! دعاؤں میں بھی دیا محمد “ ہو تو اسے بدل دیں! الجواب: (1) زید بے قید نہایت گناہ گار مستحق نار ہوا، اس پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کرے، دیو بندیوں کی اقتداء میں نماز باطل محض ہے۔ کفایہ میں ہے: والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (1) (1) الكفاية، ج ۱، ص ۳۲۴، کتاب الصلوۃ، باب الامامة، دار احياء التراث العربي بلکہ اسے دانستہ امام بنانا اس کی تعظیم ہے اور کافر کی تعظیم پر علمائے کرام کفر کا حکم فرماتے ہیں۔ در مختار میں ہے: تبجيل الكافر كفر (1) اسی میں ہے: ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح واولاده اولاد زنا و مافيه خلاف یومر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح-الخ“ (٢) زید پر ان نمازوں کا اعادہ بھی ہے جو اس نے دیو بندی کے پیچھے پڑھی ہیں۔ زید جب تک تو بہ وغیرہ نہ کرے، امامت کے لائق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۲) صحیح یہی ہے کہ یامحمد کہنا جائز نہیں بلکہ یا رسول اللہ یا حبیب اللہ وغیرہ الفاظ تعظیمی سے ندا کرے۔ قال تعالیٰ: لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا (۳) صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم یا محمد کہہ کر پکارتے ، جب یہ آیت اتری، ہم یا رسول اللہ کہنے لگے۔ علماء فرماتے ہیں کہ ادعیہ ماثورہ وغیرہ میں بھی جہاں یا محمد ہو ، وہاں بدل دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۳ / جمادی الاولی ۱۳۹۸ھ صبح الجواب بعض علماء نے یا محمد " بتایا ہے۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) الدر المختار، ج ۹، ص ۵۹۲ باب الاستبراء دار الكتب العلميه بيروت (2) الدر المختار ج ۲ ص ۳۹۰ باب المرقة ۶، ۳۹۰ باب المرتد دار الكتب العلمية، بيروت (3) سورة النور: ٦٣