لڑائی جھگڑے اور قتل کے مقدمے میں ملوث اور جیل جانے والے امام کی امامت کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک شخص عاقل بالغ ہو شیار تعلیم یافتہ گاؤں کی ایک مسجد میں بحیثیت امام مقرر تھے، چھٹی میں گھر چلے گئے امام صاحب کا داماد اُن کے گھر پر ہی رہتا تھا کسی بے بنیاد بات پر امام صاحب کے داماد اور امام صاحب کے لڑکے میں جھگڑا ہو گیا ( یعنی سالا اور بہنوئی میں لڑائی ہوئی ) بات کا ماحول طول پکڑ گیا اور امام صاحب کے لڑکے اور داماد کو شدید چوٹ آئی، دونوں کو ہسپتال بھیجا گیا، امام صاحب کا لڑکا اچھا ہو گیا اور داماد دس روز کے بعد ہسپتال کے اندر مر گیا دوسرے فریق نے چار شخصوں کے نام سے دعویٰ کر دیا جس میں امام صاحب کا نام بھی تھا صحیح تصدیق یہ نہیں ہو سکی کہ کس کے ہاتھ سے چوٹ آئی کیونکہ زیادہ آدمیوں کا جمگھٹ تھا۔ قصہ مختصر یہ کہ مقدمہ چلتا رہا اور چار آدمیوں کو سزا ہوگئی ، قریب مہینہ بھر سے جیل کے اندر ہیں اپیل منظور ہونے سے ضمانت کے تحت گھر پر آنے کے بعد جس گاؤں میں مقرر تھے اسی مسجد میں آگئے ۔ اب جواب طلب ضروری یہ ہے کہ ان کے پیچھے نماز جائز ہے؟ اور وہ شخص قابل امامت ہے یا نہیں ؟ فقط ۔ براہ کرم جواب جلد دیجئے ۔ عین نوازش ہوگی! المستفتی بٹھیکیدارشکور احمد راج پور موضع گڑھ میر پور
ظلم کرنا گناہ عظیم ہے! بلا وجہ شرعی کسی کو ستانا گناہ کبیرہ، ایسا شخص لائق امامت نہیں جب تک تو بہ نہ کرے! جھگڑے میں بیچ بچاؤ کی نیت سے آنا گناہ نہیں ! الجواب: اگر شرعی طور پر یہ ثابت نہیں کہ امام مذکور بلا وجہ شرعی اپنے داماد کو زدوکوب کرنے والوں میں شریک تھے یا انہوں نے حتی المقدور مارنے والوں کو نہ روکا تو ان پر بد گمانی نا جائز ہے۔ حدیث میں ہے: اياكم والظن فان الظن اكذب - الحدیث (۱) اگر فی الواقع وہ شریک تھے یا راضی تھے تو سخت گنہ گار مستوجب عذاب نار ہوئے ، حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہوئے ، ان پر تو بہ لازم ہے۔ اگر شرعاً ثابت ہو تو جب تک تو یہ نہ کریں ، انہیں امام بنانا جائز نہیں۔ اگر امام صاحب کی شرکت مار پیٹ میں ثابت بھی ہو جائے تو دیکھنا یہ ہے کہ ظلم وزیادتی کس کی طرف سے تھی ؟ اگر داماد ہی کی طرف سے تھی اور اپنے یا لڑکے کے بچانے کی خاطر امام صاحب شریک ہوئے تو ان پر کوئی الزام نہیں۔ اور اگر زیادتی لڑکے کی طرف سے تھی اور امام صاحب کی شرکت محض بیچ بچاؤ کے لئے تھی تب بھی ان پر الزام نہ ہوگا۔ اگر ظلم وزیادتی امام صاحب کی طرف سے ثابت ہو جائے تو ضرور وہ لائق امامت نہیں، ان کے پیچھے نماز کراہت سے خالی نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله محرم الحرام ۱۳۹۲ھ/ ۲۲ فروری ۱۹۷۲ء صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی