بوہروں سے میل جول رکھنے والے اور فاسق کی امامت کا شرعی حکم
کیا حکم ہے علمائے کرام کا : زید قاضی شہر ہے اور بوہروں کے مدرسہ میں ابتدائی معلم ہے۔ وہ عیدین کی نماز وجمعہ کی نماز و پنجوقتہ کے بھی امام ہیں، بوہروں سے مصافحہ کرتے ہیں ، عید کی مبارکباد ان کے گھر دینے جاتے ہیں، ان کو چائے پلاتے ہیں۔ نماز کی خاص پابندی بھی نہیں ہے۔ ان کے پیچھے بکر نماز جماعت سے نہ پڑھ کر علیحدہ پڑھتا ہے اور زید قاضی شہر بکر کو منافق کہتے ہیں، آیا بکر منافق ہے؟ جواب سے مطلع فرمائیں ۔ بینوا مستفتی: اختر حسین ، رتن گڑھ توجروا۔ فقط
الجواب: ایسا شخص فاسق مستحق عذاب ہے، اسے امام بنانا گناہ اور اس کی اقتداء ممنوع اور نماز واجب الاعادہ ہے۔ غنیہ میں ہے: لوقدموا فاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهةتحريم (1) در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۲) زید کا بکر کو منافق کہنا ظلم ہے، اس پر اپنے افعال بد اور اس مقولہ سے تو بہ لازم ہے اور بکر سے عذرخواہی بھی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۹ شعبان المعظم ۱۳۹۸ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی