امام کے لیے عمامہ، داڑھی کی شرعی حیثیت اور دیگر فقہی مسائل
(1) امام صاحب کے لئے پنجوقتہ اور جمعہ کی نماز میں عمامہ باندھنا ضروری ہے یا نہیں؟ (۲) داڑھی رکھنا ضروری ہے یا نہیں ؟ خاص کر امام صاحب کے لئے؟ یہاں کی بڑی مسجد میں ایک نوجوان امام صاحب تھے، اس مسئلہ کو انہوں نے یہ کہ کر ختم کیا کہ داڑھی رکھنا ضروری نہیں۔ لہذا آپ کی رائے کیا ہے؟ شریعت کی رو سے تحریر فرمائیں۔ (۳) غیر شادی شدہ حضرات نماز پڑھا سکتے ہیں یا نہیں؟ چند حضرات کو اس رائے سے اتفاق نہیں ہے۔ (۴) نمازی کے آگے یا نمازی کی طرف منہ کر کے بیٹھے رہنا یا کھڑے رہنا درست ہے یا نہیں؟ (۵) ایک امام صاحب فرض نماز میں پانچ منٹ پہلے تشریف لاتے ہیں اور کچھ لوگ مصلیٰ کے قریب قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں اور آپ مصلی پر بیٹھ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں قرآن پاک پشت کی طرف ہو جاتا ہے۔ اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ ان مسائل کو لکھنے کا مقصد ہے معلومات حاصل کرنا اور اپنے ایمان کو درست کرنا۔ فقط ۔ والسلام
الجواب: المستفتی محمد قاسم، اجابانده مسجد، پوسٹ رانی گنج ضلع ، بردوان، بنگال (1) عمامہ باندھنا مستحب ہے اور کار ثواب ہے ، نہ باندھنے میں حرج نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) داڑھی بہ قدر ایک مشت رکھنا بلاشبہ واجب ہے، اس سے کم کرنا یا منڈا ناحرام بد کام بدانجام ہے۔ در مختار میں ہے: اسی میں ہے: يحرم على الرجل قطع لحيته (1) (۱) (۲) والسنة فيها القبضة “(۲) اس کے وجوب کا منکر گمراہ ہے، اسے امام بنا نا گناہ اور اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی الدر المختار، ج ۹، ص ۵۸۳، كتاب الحظر والاباحة باب الاستبراء وغيره دار الكتب العلمية، بيروت الدر المختار، ج ۹، ص ۵۸۳، کتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء وغيره، دار الكتب العلمية، بيروت واجب الاعادہ۔ درمختار میں ہے: کل صلاة ادیت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۱) غنیہ میں ہے: لو قدموا فاسقا یاثمون (۲) اس کے پیچھے جو نمازیں پڑھیں ان کا اعادہ لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) پڑھا سکتے ہیں جبکہ لائق امامت ہوں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ناجائز و گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) قرآن عظیم کی طرف پشت کرنا منع ہے کہ سوء ادب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۵ / ربیع الاول ۱۳۹۸ھ