وہابی دیوبندی کے پیچھے نماز کا حکم اور بدعتی و کافر کے پیچھے اقتداء کی شرعی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) وہابی دیوبندی کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟ اگر نہیں ہوگی تو کیوں نہیں ہوگی ؟ مفصل طریقے پر
مسئله - ۲۹۴ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۶/ جمادی الآخر ۱۳۹۸ھ مرتد کی نماز خود میچ نہیں ابدعتیوں کے پیچھے نماز جائز نہیں کافر کی نماز نماز نہیں اوہابی دیو بندی کی حمایت کرنے والا ظالم ہے، اگر ان کے عقائد کی حمایت کرے تو انہی میں سے ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) وہابی دیوبندی کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟ اگر نہیں ہوگی تو کیوں نہیں ہوگی ؟ مفصل طریقے پر بیان فرمائیے۔ (۲) وہابی دیوبندی کی جوشخص حمایت کرے، اس کو سہارا دے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ المستفتی محمد ابراہیم قریشی ، سٹیشن گٹر ابلاک با تک گنج ضلع لکھیم پور (یوپی) الجواب: (1) وہابیہ دیابنہ مرتدین ہیں اور مرتد کی نماز خود صحیح نہیں تو اس کی اقتدا کیونکر صحیح ہوگی ؟ فتح القدیر میں ہے: ان الصلاة خلف اهل الاهواء لا تجوز (1) کفایہ میں ہے: والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) سخت گناہگار مستحق نار، مستوجب غضب جبار ہے اور اگر اُن کے عقائد کفریہ کی حمایت کرتا ہو یا ان کے کفریات پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان سمجھتا ہو تو کافر بیدین ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۲؍ جمادی الثانی ۱۳۹۵ھ