جمعہ وعیدین کے لئے امام ماذون ہونا ضروری اور مسجد میں دوسری جماعت کا حکم
جمعہ وعیدین کے لئے امام ماذون ہونا ضروری! اعلم علمائے بلند کے ہوتے ہوئے عوام کا کسی کو مقرر کر نا معتبر نہیں دوسری جماعت کا امام ماذون نہ تھا تو نماز نہ ہوئی ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ: جمعہ وعیدین کی نماز دوبار ایک مسجد میں ہو سکتی ہے یا نہیں؟ ہمارے یہاں بارش میں لوگ زیادہ ہو جاتے ہیں اور مسجد چھوٹی پڑ جاتی ہے، لوگوں کو جگہ نہیں ملتی اور جماعت چھوٹ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں کسی کو امام بنا کر اسی مسجد میں یا دوسری مسجد میں جس میں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی ، نماز جمعہ یا عیدین پڑھ لیتے ہیں۔ کیا یہ امامت و نماز درست ہے ؟ اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ حصہ سوئم ،ص ۱۸۰۱ پر تحریر فرماتے ہیں کہ امامت جمعہ وعیدین کے لئے امام خود سلطان اسلام ہو یا اس کا ماذون اور جہاں یہ نہ ہو تو بضر ورت جسے عام مسلمانوں نے جمعہ وعیدین کا امام مقرر کیا ہو، دوسرا شخص اگر چہ کیسا ہی عالم وصالح ہو، ان نمازوں کی امامت نہیں کر سکتا ۔ اگر کرے گا تو نماز نہ ہوگی۔ اور اسی طرح مذکورہ کتاب ص ۱۸۰۵ پر تحریر فرماتے
الجوا: فی الواقع جمعہ وعیدین کے لئے امام ماذون ہونا ضروری ہے اور اعلم علماء بلد مرجع فتویٰ کہ قائم مقام حاکم اسلام ہے کہ ہوتے ہوئے عوام کا از خود کسی کو امام بنا لینا معتبر نہیں۔ در مختار میں ہے: وو ،، و نصب العامة الخطيب غير معتبر مع وجود من ذكر ) لہذا اگر دوسری جماعت کا امام ماذون نہ تھا تو نماز نہ ہوئی۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ