دنیوی عناد کی بنیاد پر امام کی اقتدا نہ کرنے اور عید کی دوسری جماعت کا شرعی حکم
حضرت ذوالحجد والکرام جناب مفتی صاحب قبلہ ! السلام عليكم مندرجہ ذیل مسائل کے جوابات دلائل و براہین کی روشنی میں مطلوب ہیں۔ (1) قصبہ لوکھا ضلع مدھوبنی بہار میں اہل سنت و جماعت کی دو جامع مسجد ہیں، دونوں میں امام سنی صحیح العقیدہ ہیں ، عوام ان کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کرتے لیکن زید جو اپنے آپ کو سنی عالم کہتا ہے، ان اماموں کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کرتا ہے جبکہ امام میں کوئی شرعی نقص نہیں ہے بلکہ زید کسی بھی مسجد میں کسی وقت کی نماز ادا نہیں کرتا ہے، خدا بہتر جانے کہ گھر پر نماز ادا کرتا ہے یا نہیں؟ اور جب عیدین کا وقت آتا ہے تو اپنے خاندان کے لوگوں کو لے کر عیدگاہ میں الگ دوسری جماعت کرتا ہے، جبکہ عیدگاہ میں جامع مسجد کے امام کے پیچھے ہزاروں افراد پر مشتمل ایک جماعت ہوتی ہے۔ نیز زید سے اکثر عوام ہمیشہ ناراض بھی رہتے ہیں۔
دنیوی عناد پر جامع شرائط امام کی اقتدا نہ کرنا گناہ ہے! احق امامت کے ہوتے ہوئے امامت دیگر مکروہ ہے! جماعت بر مذہب معتمد واجب ہے، اظہر الفائق میں اسے سب سے بہتر قول قرار دیا گیا ہے ! بے وجہ شرعی عید کی دوسری جماعت بھی جائز نہیں ! عید کی دوسری جماعت امام ماذون نے نہ کرائی تو نماز نہ ہوئی ! الجواب: امام جامع شرائط امامت کی اقتدا سے محض دنیوی عناد کی وجہ سے باز رہنا گناہ ہے۔ در مختار میں ہے: وو ولو أم قوماً وهم له كارهون ان الكراهة لفساد فيه او لا نهم احق بالامامة منه كره له ذلك تحريماًوانهواحقلا والكراهةعليهم_ملتقطاً (1) (1) الدر المختار، ج ۲، ص ۲۹۷،۲۹۸ کتاب الصلوۃ، باب الامامة، دار الكتب العلمية، بيروت اور بے عذر شرعی جماعت کا ترک گناہ اور اس کی عادت اشد کبیرہ ہے کہ جماعت بر مذہب معتمد واجب ہے۔
در مختار میں ہے:
وو و الجماعة سنة مؤكدة للرجال وقيل واجبة وعليه العامة اى عامة مشائخنا وبه جزم في التحفة وغيرها - قال فى البحر وهو الراجح عند اهل المذهب (1)
رد المحتار میں ہے:
قال في البحر وقال في النهر هو اعدل الاقوال واقواها (۲)
لہذا بر تقدیر صدق سوال زید بے قید اشد گنہگار، مستوجب نار ہے، اس پر تو بہ لازم ہے ورنہ ہر واقف حال مسلم اسے چھوڑ دے اور بے وجہ شرعی عید کی دوسری جماعت کرنا بھی اسے روا نہیں۔ پھر اگر امام ماذون نے عید کی نماز نہ پڑھائی بلکہ اس نے پڑھائی جو امام ماذون نہیں تو عید کی نماز نہ ہوئی اور واجب سر سے نہ اترا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله