جمعہ کی اذانِ ثانی، ٹی وی دیکھنا اور جھوٹ بولنے والے عالم کی امامت
(۳) جمعہ کی ثانی اذان کے بعد دعامانگنا جائز ہے؟ کیونکہ ہم نے علماء سے سنا ہے کہ ثانی اذان کے بعد دعا مانگنا جائز نہیں ہے چاہے امام ہو یا مقتدی۔ (۴) ایک مسجد کے پیش امام جو کہ ارتھی کے جلوس اور ان کی لاش کو نذرآتش کرنے کی فلم ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہیں وہ بھی نماز کے وقت میں ۔ کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟ (۵) ۱۲ ؍ ربیع الاول کے دن میلاد النبی کے جلسہ میں تقریر کے لئے ایک عالم کو مدعو کیا جاتا ہے وہ انکار کرتا ہے : ”میں اُس دن شہر میں نہیں رہوں گا مگر وہ عالم اس دن شہر میں موجود تھا۔ اس طرح ایک عالم جھوٹ بول سکتا ہے؟ ایسے عالم کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟
الجواب: المستقطنی : عبدالرشید ایڈوکیٹ، (کرناٹک) (1) عینک اتار کر نماز پڑھائے ورنہ یہ خلاف اولیٰ اور کراہت سے خالی نہیں ۔ کذا فی الفتاویٰ الرضوية () واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اسٹیل کی چین نماز و بیرون نماز میں بہر حال ممنوع ہے اور اس کو پہننے کا جو عادی ہے اس کی امامت و نماز مکروہ۔ واللہ تعالیٰ اعل (۳) ہاں اس وقت خاموش رہنے کا حکم ہے۔ در مختار میں ہے: اذا خرج الامام فلا صلاة ولا كلام (۲) جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو نماز و کلام ممنوع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) امام کو یہ منظر دیکھنا جائز نہ تھا بر تقدیر صدق سوال و ثبوت وہ تو بہ کرے ورنہ وہ لائق امامت نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اس قدر سے جھوٹ ثابت نہیں ہوتا۔ مسلمان کے ساتھ نیک گمان کا حکم ہے اور بدگمانی حرام ہے۔ سرکار ابد قرار علیہ السلام نے فرمایا: ،، ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ) گمان سے بچو اس لئے کہ گمان بڑی جھوٹی بات ہے۔ اور عالم اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کے ساتھ نیک گمان کیا جائے تو جب تک اس کا عذر مندفع اور تعمد دروغ شرعاً ثابت نہ ہو، اسے جھوٹا کہنا در کنار، گمان کرنا بھی حرام بد کام بد انجام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۶ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۵ھ (۱) فیض القدیر شرح جامع الصغیر من احادیث البشیر والنذیر ج ا حرف الهمزة، ص۱۵۷، دار الكتب العلمیة، بیروت