دیوبندی کے پیچھے عمداً نماز پڑھنے اور اسے امام بنانے کا حکم
زید دیوبندی ہے بلکہ دیو بندی گر ہے۔ زید کی دیوبندیت اظہر من الشمس ہے۔ بکر جو کہ عالم دین سنی صحیح العقیدہ ہے، بکر نے زید کے پیچھے عمداً یعنی جان بوجھ کر نماز پڑھی، بکر کے کہنے پر خالد نے بھی زید کے پیچھے نماز پڑھی ، خالد بھی سنی صحیح العقیدہ ہے۔ خالد نہیں پڑھ رہا تھا اس پر بکر نے کہا کہ بعد میں اعادہ کر لیا جائے گا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ بکر نے جان بوجھ کر زید کے پیچھے نماز پڑھی تو شریعت مطہرہ کے نزدیک کیا حکم ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب ارسال فرمائیں۔ المستلقي : عبدالستار خاں، پوسٹ آفس نواب منبع ، گونڈو
الجواب: دیو بندیوں کی اقتداء میں نماز اصلاً ہوتی ہی نہیں اور دیو بندی کو جان بوجھ کر امام بنانا اشد گناہ بلکہ فقہاء کرام کے نزدیک کفر ہے کہ سیاس کی تعظیم ہے اور کافر کی تعظیم کفر ہے۔ والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (1) کفایہ میں ہے: در مختار میں ہے: تبجيل الكافر كفر (۲) بکر و خالد پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان و تجدید نکاح بھی کر لیں۔ در مختار میں ہے: ’ومافيه خلاف يومر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۶؍ جمادی الاخری ۱۳۹۸ھ (1) (۲) الكفاية ، ج 1 ، كتاب الصلوة باب الامامة، ص ۳۲۴ ، دار احیاء التراث العربي ، الدر المختار، ج ۹، ص ۵۹۲ باب الاستبراء دار الكتب العلميه، بيروت (۳) الدر المختار، ج ۶، ص ۳۹۰، کتاب الجهاد باب المرتد، دار الكتب العلمية، بيروت