دینی امور میں ووٹنگ، غیبت کرنے والے امام کا حکم اور تفریق بین المسلمین و بے جا تکفیر کے مسائل
حضور! السلام علیکم ذیل میں چند سوالات حاضر خدمت ہیں، جوابات سے نوازا جائے ۔ کرم ہوگا۔ (1) کسی مسجد کی کمیٹی کا انتخاب ہونے جا رہا ہے جس میں صدر وغیرہ عہدہ کے امیدوار اور رائے دہندہ ( ووٹر) اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی احمد رضا خاں صاحب عظیم البرکت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مسلک پر قولاً اور عملاً چلنے والے لوگ ہیں۔ یہ انتخاب پوشیدہ طریقہ سے عمل میں آئے گا۔ پوشیدہ طریقہ یعنی ووٹر نے کس امیدوار کو اپنا ووٹ دیا، کسی کو معلوم نہ ہوگا اور جس ووٹر کے عقیدہ پر شک ہوگا اس سے اعلیٰ حضرت کے کفری فتویٰ جود یو بندی اشرف علی تھانوی وغیرہ پر صادر کئے گئے ہیں، زبانی و تحریری دونوں طریقے سے تصدیق کرائی جائے گی۔ تصدیق کرنے والا ووٹ دے گا اور تصدیق نہیں کرنے والا دوٹ نہیں دے گا۔ مگر زید کہتا ہے کہ مسجد کمیٹی کے انتخاب کا پوشیدہ طریقہ شرعاً نا جائز ہے اور بکر کہتا ہے کہ شرعاً جائز ہے۔ لہذا اس مسئلہ کے متعلق علمائے دین و مفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں؟ (۲) جو امام اپنے حجرہ میں چند لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر اپنے مخالفین کی غیبت کرے،اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نا جائز ؟ (۳) جس امام کے بیانات سے ایک ہی عقیدہ رکھنے والوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے تو امام کو کیا کرنا چاہئے؟ (۴) کسی مسلمان مجسٹریٹ سے اپنے نقصانات کے گمان کی بنا پر کسی امام نے اس مجسٹریٹ کو دیو بندی اور جماعت اسلامی کہا مگر ایک دوسرے امام نے جو پہلے امام کا ہم عقیدہ ہے، ایک جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بحیثیت مہمان خصوصی دعوت دیا اور اس مجسٹریٹ کا نام پوسٹر میں چھپوایا جو جلسہ
دینی امور میں ووٹنگ شرعاً جائز ہے ! غیبت کرنے والا فاسق معلن ہے، بے تو بہ امام نہیں کیا جائیگا کراہت کے ساتھ ادا کی گئی نماز کا اعادہ واجب ہے تفریق بین المسلمین گناہ عظیم ہے اسی صحیح العقیدہ کو دیوبندی کہنا ظلم و گناہ ہے! کسی مسلم کو کافر جاننے والا خود کا فر ہے! دیو بندی کو دیوبندی کہنے پر الزام نہیں! (1) انتخاب اگر کسی وجہ معقول و مقبول کی بنا پر ہو تو اس میں حرج نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اگر امام مذکور کا غیبت کرنا طریق شرعی سے ثابت ہو تو وہ فاسق معلن ہے، اسے بغیر تو بہ امام بنانا گناہ اور اس کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب ہے۔ غنیہ میں ہے: ”لو قدموا فاسقاياثمون) در مختار میں ہے: ”کل صلاۃ ادیت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بے وجہ شرعی تفریق بین السلمین گناہ عظیم ہے اور اس کا مرتکب نالائق امامت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) مجسٹریٹ اگر سنی صحیح العقیدہ ہے تو اسے دیو بندی کہنے والا سخت گناہ گار ظالم جفا کار مستحق نار ہے اور اگر اسے واقعی کفر جانا تو خود کا فر ہے۔ تو بہ وتجدید ایمان لازم اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور اگر مجسٹریٹ واقعی دیوبندی ہے تو کہنے والے پر الزام نہیں، اسے مدعو کر نے والا ملزم ہے، اس پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۶/ جمادی الآخر ۱۳۹۸ھ (۱) غنية المستملى شرح منية المصلى، ص ۵۱۳، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی (۲) الدر المختار، ج ۲، ص ۱۴۷ ، ۱۴۸، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، مطبع دار الكتب العلمية، بيروت