سلام کی شرعی حیثیت، دینی مصلحت کی بنا پر ترکِ سلام اور امام کو بلاوجہ معزول کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (1) اگر کوئی شخص کسی دینی مصلحت کی بنا پر سلام نہ کرے تو کیا اسے امامت سے ہٹانا درست ہے؟ نیز یہ بھی حکم بیان فرمائیں کہ سلام کرنا عند الشرع فرض و واجب ہے؟ (۲) امام مسجد کی اجازت کے بغیر اگر کوئی شخص نماز پڑھائے تو اس امام اور نماز کا کیا حکم ہے؟ اور جب کہ یہ فعل امام کی موجودگی میں کیا جائے بغیر عذر شرعی کے تو عند الشرع کیا حکم ہے؟ المستفتی معین الدین نوری، امام مسجد ڈاکخانہ ، شہامت گنج ، بریلی
الجواب: (1) غیر فاسق و مبتدع کو سلام کرنا سنت ہے اور دینی مصلحت سلام سے مانع ہو تو سلام واقعی منع ہے اور ترک سلام پر امامت سے ہٹانا مطلقاً جائز نہیں کہ یہ جرم نہیں جس پر معزول کرنے کا استحقاق ہو اور بے وجہ شرعی معزول کرنا ممنوع ہے۔ (1) لا يصح عزل صاحب وظيفة بلاجنحة ) واللہ تعالیٰ اعلم در مختار میں ہے: الدر المختار، ج ۶، ص ۵۸۱ ، کتاب الوقف، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) امام کی اجازت کے بغیر نماز پڑھانا نہ چاہئے اور نماز بے کراہت جائز ہے جبکہ پڑھانے والا امامت کا اہل ہو ورنہ امامت کے لئے تقدم گناہ اور نماز علی الاقل مکر وہ ہوگی اور بصورت تحقق مفسد فاسد۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ ۳۰ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ