داڑھی منڈا یا قرآن غلط پڑھنے والا امامت کا اہل نہیں ! ایسوں کو امام بنانے والے سخت گنہ گار ہیں !
عالیجناب قبلہ و کعبه محترم المقام قابل عزت وصد احترام قبلہ حضرت علامہ محمد اختر رضا خاں از هری مفتی اعظم ہند ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: (1) ایک بہترین حافظ صاحب رمضان شریف میں تراویح پڑھاتے ہیں مگر داڑھی ایک مشت بھی نہیں جتنی ہونا چاہئے اور اگر حافظ صاحب داڑھی نہ کٹوائے تو ایک مشت ہو سکتی ہے مگر تر شواتے ہیں ۔ تو کیا ایسے حافظ صاحب کے پیچھے پنجگانہ نماز ہو جائے گی کہ نہیں؟ شریعت کی روشنی میں مطمئن جواب عنایت فرمائیں۔ (۲) جہاں ایسے حافظ صاحب نماز پڑھاتے ہیں وہاں کی مسجد کے متولی اور جماعت والوں کو معلوم ہے کہ نماز نہیں ہوگی مگر پھر بھی پڑھے جارہے ہیں تو شریعت متولی صاحب اور جماعت والوں کے اوپر کیا حکم نافذ کرتی ہے؟ (۳) ایک امام ایسا ہے کہ قرآت صحیح نہیں ہے ج“ کوس کوش“ پڑھتا ہے نماز میں اور اسی جماعت میں اس سے اچھا انسان ہے، قرآت وغیرہ درست ہے مگر اس کو جماعت والے نہیں پڑھانے دیتے جبکہ اس دوسرے امام میں کوئی خامی نہیں ہے اور جماعت کہتی ہے کہ اچھا پڑھائے یا غلط پڑھائے، جماعت تو راضی ہے اور جو امام غلط پڑھاتا ہے وہ جماعت کے ایک دوسرے کے رشتہ دار میں سے ہے اس لئے نہیں بناتے ، تو ایسے امام کے پیچھے نماز ہوگی کہ نہیں؟ اور ایسی جماعت کے اوپر کیا حکم نافذ ہوتا ہے؟ جواب جلد از جلد عنایت فرمانے کی زحمت گوارہ فرمائیں۔ فقط والسلام
الجواب: المستفتی: شبیر احمد اشرفی ، جامع مسجد اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ غنیہ میں ہے:
لوقدموافاسقاياثمون (1) در مختار میں ہے: ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) اور جو قرآن صحیح نہیں پڑھتا اس کی نماز درست نہیں ہے اور اس کی اقتدا میں سب کی نماز فاسد۔ اور جو اسے امام بنانے پر مصر ہیں وہ بھی سخت گناہگار ہیں جس طرح اس پہلے کو امام بنانے والے جو داڑھی حد شرع سے کم کراتا ہے گناہ گار مستوجب نار ہیں، ان سب پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۶ / جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ