وہابی امام کے پیچھے نماز پڑھانے پر متولی کا اصرار اور سنی عالم کو نکالنے پر شرعی حکم
اختلاف رہا، چوتھے تراویح کے دن میں مسجد کے امام نے متولی سے پوچھا کہ متولی صاحب! سننے میں آیا ہے کہ حافظ جی وہابی ہیں؟ تو متولی صاحب نے کہا کہ حافظ جی %100 وہابی ہیں، جن کی طبیعت چاہے، ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ سنی حافظ ۸۰۰ رسور پے مانگتے ہیں تھوڑی دیر بعد متولی صاحب نے مسجد کے باہر جا کر کہا کہ مولانا یہاں آؤ۔ مولا نا وہاں گئے تو متولی صاحب نے کہا کہ حافظ جی پکا وہابی ہے، کیا تمہاری اس کے پیچھے نماز ہو جائے گی ؟ تو مولانا نے کہا کہ اگر حافظ جی وہابی ہے تو میری نماز اس کے پیچھے نہیں ہوگی تو متولی صاحب نے کہا کہ اگر تمہاری نماز اس کے پیچھے نہ ہوگی تو تم اپنا بستر باندھو، یہاں سے جاؤ ، میں اپنا امام تلاش کرلوں گا تم دوسرے کے کہنے پر نکتہ چینی کرتے ہو کہ حافظ جی وہابی ہیں ۔ حالانکہ مولانا نے کسی کے کہنے پر نکتہ چینی نہیں کی ہے اور متولی صاحب یہ کہتے ہیں۔ بہار کے جتنے دونوں مدر سے میں مفتی ہیں سب کے سب لڑکوں کی طرف رہتے ہیں لڑکے کی کوئی غلطی کسی مفتی نے نہیں نکالی ۔ لہذا اس فتوی کا جواب حضور مفتی اعظم سے تصدیق کرا کر بھیج دیں کہ اس میں مولانا کی کیا غلطی ہے؟ اور متولی پر شرع کی طرف سے کیا حکم ہے؟ اور جو نماز حافظ جی کے پیچھے پڑھی گئی، لوٹانی پڑے گی یا نہیں؟ اور متولی صاحب یہ کہتے ہیں کہ ہر متولی مولانا کو ڈانٹ سکتا ہے۔ المستفتی: محمد لقمان ماسٹر بر همپوری، بریلی شریف (یوپی)
الجواب: متولی مذکور سخت ظالم جفا کا ر حق اللہ وحق العبد میں گرفتار نہایت جری احکام شرعی سے سرتابی کرنے والا بے باک ہے۔ پہلا جرم اس کا یہ ہے کہ تمام سنی صحیح العقیدہ مقتدیوں پر وہابی بد عقیدہ امام کو مسلط کیا۔ وہابی بد عقیدہ بددین خارج از اسلام جس کی ادنی تعظیم کفر ومنافی اسلام ۔ در مختار میں ہے: ،، تبجيل الكافر كفر (۱) اسے امام بنانا یہ اس کی کس درجہ کی تعظیم ہوئی اور کس درجہ کا جرم ہوا پھر تمام مقتدیوں کی نماز فاسد کرانا دوسرا جرم عظیم ہے۔ پھر یہ کہنا کہ بہار کے لڑکے بہاری مفتیوں سے اپنے حق میں لکھوا لیتے ہیں، یہ بھی جرم عظیم ہے، ان طلبہ پر بہتان و تہمت باندھنا اور علما پر طرف داری کی تہمت علما کی توہین ہے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ رب العلمین ۔ اس پر واجب ہے کہ ان تمام ہفوات وخرافات سے تو بہ کرے اور اس وہابی امام کوفوراً نکالے ورنہ مسلمان پر فرض ہے کہ اسے چھوڑ دیں اور تولیت سے معزول کریں۔ اور اس وہابی امام کو نکالیں اور جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھی گئیں، انہیں دہرائیں اور وہابی جانتے ہوئے اس کی اقتدا کی تو تو به وتجدید ایمان بھی کریں اور بیوی والے ہوں تو تجدید نکاح بھی کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ اور متولی پر بھی نماز دہرانا تو بہ و تجدید ایمان فرض ہے۔ الجواب صحیح والمجیب صحیح فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ / رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی