داڑھی منڈانے والے کی امامت اور قرات میں طویل توقف پر سجدہ سہو کا حکم
(1) داڑھی منڈوانے والے کو امام بنانا کیسا ہے؟ اور اس کے پیچھے جو نماز پڑھی گئی ، اس کے متعلق شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ (۲) امام صاحب نماز پڑھا رہے تھے، ان کو نماز میں قرآت پڑھنے میں متشابہ لگا پیچھے ایک حافظ صاحب نے لقمہ دیا تو پیچھے سے قریب نو آیت کے لوٹا کر پڑھا پھر نماز تمام ہوئی۔ بعد سلام کے لقمہ دینے والے نے فرمایا کہ آپ کو سجدہ سہو کرنا چاہئے تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ کوئی ضرورت نہیں ہے سجدہ سہو کرنے کی ۔لہذا اس حالت میں نماز ہوگی یا نہیں؟ لمستفتی: طالب خیر محمد نبال الدین مقام و پوست تحصیلم آنولہ، بریلی شریف
(1) داڑھی منڈا فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے۔ غنیہ میں ہے: در مختار میں ہے: ،، لوقدموافاسقاياثمون (1) ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “ (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) امام اگر بقدر تین تسبیح خاموش رہا تو سجدہ سہوضرور تھا ور نہ ضرورت نہ تھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۱/ذیقعده ۱۴۰۱ھ