فاسق کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے
کا جھوٹ ثابت ہوا۔ جناب عالی! ان تمام باتوں کی وجہ سے یہاں پر کافی لوگوں نے ان کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دی ہے، وہ باہر جمعہ کے لئے جاتے ہیں، کچھ لوگ اپنی نمازیں دہراتے ہیں ،نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ جھگڑے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ لہذا آپ سے درخواست ہے کہ از وئے قرآن وحدیث وفقہ اس بات کا فتویٰ دیں کہ کیا ایسے امام کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے؟ اور اگر نہیں ہو سکتی تو امام کے سلسلہ میں کیا کرنا چاہئے؟ فقط ۔ والسلام مستفتیان : مسلمانان پنت نگر ، ڈاکٹر سید احمد علی، مقبول احمد ، رفیق احمد
الجواب: وہابی اپنے عقائد کفریہ کے سبب کا فربے دین ہیں۔ لہذا وہ اصلاً امامت کے اہل نہیں بلکہ ان کی نماز ہی باطل ہے تو ان کی اقتداکسی نماز میں درست نہیں ۔ کفایہ میں ہے:
وَالْكَافِرُ لَا صَلَاةَ لَهُ فَالاِقْتِدَاءُ بِمَنْ لَا صَلَاةَ لَهُ بَاطِلٌ (1)
اور جوسنی صحیح العقیدہ داڑھی منڈا تا یا حد شرع سے کم کراتا ہو، فاسق معلن ہے،اسے امام بنانا گناہ ہے۔ غنیہ میں ہے:
لَوْ قَدَّمُوا فَاسِقًا يَأْثَمُونَ بِنَاءً عَلَى أَنَّ كَرَاهَةَ تَقْدِيمِهِ كَرَاهَةَ تَحْرِيمٍ (2)
اور اس کے پیچھے نماز واجب الاعادہ ہے۔ در مختار میں ہے:
كُلُّ صَلَاةٍ أُدِّيَتْ مَعَ كَرَاهَةِ التَّحْرِيمِ تَجِبُ إعَادَتُهَا (3)
اور جس کی داڑھی نکلی ہی نہیں، وہ ملزم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (1) الكفايه شرح فتح القدیر ، ج ۱، ص ۳۲۴، کتاب الصلوة، باب الامامة ، دار احياء التراث العربي بيروت (2) غنية المستملى شرح منية المصلى، ص ۵۱۳، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی لاهور (3) الدر المختار، ج ۲، ص ۱۴۷ ، ۱۴۸، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، مطبع دار الكتب العلمية، بيروت