جامع مسجد دہلی کے امام اور وہابی کے پیچھے نماز پڑھنے کا شرعی حکم
وہابی کو امام بنانا حرام ادیو بندی کے پیچھے نماز باطل محض ! وہابیہ پر بھی اکثر فقہا کے نزد یک حکم کفر ہے! مسائل ضرور یہ یہ ہیں کہ : (1) جامع مسجد دہلی کے خطیب و امام جو ہیں وہ سنی ہیں یا وہابی؟ اور ان کے پیچھے نماز جائز ہے کہ نہیں؟ بہت سے یہ کہتے ہیں کہ حکومت کے پٹھو ہیں، سیاست سے کام لیتے ہیں ان کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے۔ (۲) وہابی امام جان کر پھر اس کے پیچھے نماز جمعہ ادا کرے اور نیت کا دعوی کرے کیا اس کی نماز ہوگی ؟ اس امام کو خطبہ شہید مولانا اسماعیل دہلوی کی پڑھتا دیکھتے ہوئے بھی نماز ادا کرتے ہیں۔ المستفتی محمد تشریف بڈانڈے گونڈہ معرفت محمد تشریف عرف منشی جی راجون پر بھات مارگ، نیورو ہتک روڈ ، قرول باغ ہنئی دہلی۔ 9 ، مکان نمبر 60/26
الجواب: (1) جامع مسجد دہلی کا امام وہابی تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہابی کو امام بنانا حرام ہے اور دیو بندی کو امام بنانا بہت سخت ہے۔ جس سے تو بہ وتجدید ایمان لازم اور نماز اس کے پیچھے باطل ہے کہ دیوبندی مرتد ہیں، بخلاف وہابی غیر مقلد کے کہ وہ گمراہ بددین ہیں اور بہ وجوہ عدیدہ اکثر فقہاء کے قول میں حکم کفر اُن پر بھی ہے۔ لہذا ان کی اقتداء سے بھی سخت احتراز لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ