مسجد کے امام کو بلا وجہ شرعی منصب سے معزول کرنے اور اسے اذیت پہنچانے کے بارے میں شرعی حکم
جمعہ کے روز محمد اسحاق علی جمعہ پڑھنے مسجد میں گیا وہاں یعنی مسجد کے اندر سردار علی ولد غلام علی ساکن مہرونی والوں نے محمد اسحاق علی ولد واحد علی شاہ مہرونی والوں سے کہا کہ اسحاق تم خطبہ پڑھا دو اور شفیع محمد نماز پڑھا دیں گے جبکہ پیش امام مہرونی کے نہ ہونے پر برابر قریب ، ارسال سے نماز پڑھاتا آرہا ہو۔ اسحاق علی نے جواب دیا کہ شفیع محمد ہی خطبہ پڑھیں گے میرے سر میں درد ہے پھر بعد نماز جمعہ محمد اسحاق علی نے سب نمازیوں کو روک کر سردار علی سے پوچھا کہ آپ نے یہ کیوں کہا کہ تم خطبہ پڑھا دو اور شفیع محمد نماز پڑھا دیں گے کیا میں نماز پڑھانے کے قابل نہیں رہا؟ مجھ میں ایسی کون سی خامی پیدا ہو گئی جس پر سردار علی نے تیزی سے جواب دیا کہ تم دونوں بھائی مسجد سے نکل جاؤ اس کے باوجود اسحاق علی سے کہا کہ تم فتنہ پیدا کرتے ہو، اس پر اسحاق علی نے پوچھا کہ کون سی بات مجھ سے فتنہ کی پیدا ہوئی ؟ مجھ کو بتائیے تا کہ میں اسکا خیال رکھوں گا اور آئندہ کے لئے اس بات کو ترک کر دوں ۔ پھر سردار علی نے کہا کہ میں تمہیں ہمیشہ ٹوکتار ہوں گا اور اسی طرح کہتا رہوں گا جس پر اسحاق علی نے کہا کہ جب تم کہو گے تو دوسرا بھی تم سے کہے گا اس پر سردار علی نے جوتا اتار کر کہا کہ یہ کیلئے ہے؟ بقلم: محمد اسحاق علی ولد واحد علی شاہ رضوی جامع مسجد کے پاس مہرونی ضلع للت پور (یوپی)
الجواب: بے وجہ شرعی کسی عمل سے کسی کو معزول کرنا صحیح نہیں۔ ،، در مختار میں ہے : " لا يصح عزل صاحب وظيفة بلاجنحة (1) لہذا امام سابق اپنے منصب پر شرعاً بحال رہے گا اور بلا وجہ اسے جو آزار پہنچایا، اس کی تلافی و عذر خواہی آزار رساں پر لازم ہے ورنہ سخت گنہگار مستوجب نار، حق اللہ وحق العبد میں گرفتار رہے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی شب ۵ / ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ (1) الدر المختار، ج ۶، ص ۵۸۱ ، کتاب الوقف، دار الكتب العلمية، بيروت