جماعت اسلامی کے عالم کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: جماعت اسلامی کے عالم یا ان کے شاگرد کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ مستفتی محمد انوار الحق ، ساکن چکر دھر پورسنگھ بھوم)
الجواب: ہرگز نہیں کہ حرام ہے اور جو پڑھی جا چکی اس کا لوٹانا واجب ہے ۔ کل صلاۃ ادیت مع كراهة التحريم تجب اعادتها [ الدر المختار، ج ۲، ص ۱۴۷، ۱۴۸، کتاب الصلوۃ ، باب صفۃ الصلوۃ ، مطبع دارالکتب العلمية ، بیروت ]۔ وھو تعالیٰ اعلم حضور والا! مندرجہ بالا جواب صحیح ہے یا غلط؟ وضاحت فرمانے کی زحمت گوارہ کریں۔ بعض سنی عالموں کا اس جواب پر اعتراض ہے اُن کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے پیچھے مطلقاً نماز کے عدم جواز کا فتویٰ دینا مناسب نہیں ہے ۔ فقط لمستفتی :عبدالواجد قادری غفرلۂ الجواب: مودودی کے پیچھے نماز باطل محض ہے کہ مودودی جماعت، مرتدین کی جماعت ہے، ان کے عقائد کفریہ ہیں اور وہ دیو بندیوں کو ( جنہوں نے ضروریات دین کا انکار کیا اور اللہ و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تو ہین لکھیں، چھاپیں، جنہیں علمائے حرمین شریفین و مصر و ہند وسندھ نے ایسا کافر بیدین کہا کہ جواُن کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے ) مسلمان جانتے ہیں اور مرتد کی نماز خود نہیں ہوتی تو اُس کی اقتدا کب درست ہو سکتی ہے؟ کفایہ میں ہے: ،،والكافرلاصلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۷ ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ