جس کی بیوی بے پردہ گھومتی ہو، اس کی امامت کا حکم اور ایسی نماز کا اعادہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کی بیوی عام طور سے بے پردہ پھرتی ہے جیسے بازار سے سودا لانا، جنگل سے گھاس وغیرہ لانا۔ ایسی حالت میں زید کی امامت درست ہے یا نہیں؟
الجواب: زید کی امامت مکروہ ہے اور اس کی اقتد اگناہ اور نماز واجب الاعادہ ہے جبکہ اس کی بے پردگی سے راضی ہو اور حتی المقدور اسے باز رکھنے کی کوشش نہ کرتا ہو۔ لوقدموا فاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (1) غنیہ میں ہے: در مختار میں ہے: ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) اور اگر وہ حتی المقدور باز رکھنے کی سعی کرتا ہے تو ملزم نہیں۔ اور اس کے پیچھے نماز اس وجہ سے مکروہ نہ ہوگی۔ قال تعالیٰ: لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (۳) (1) غنية المستملى شرح منية المصلى، ص ۵۱۳ ، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی (۲) الدر المختار، ج ۲، ص ۱۴۷، ۱۴۸، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، مطبع دار الكتب العلمية، بيروت (۳) سورة البقرة: ٢٨٦ وقال تعالى : ولا تزرُ وَازِرَةٌ وزر أخرى ) اللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (1) سورة الانعام: ۱۶۴