فتویٰ کی توہین، داڑھی منڈانے والے امام اور اس کے حامیوں کا شرعی حکم
کرائے جو اس طرح سے ہیں وہ امام کہتا ہے کہ جمعہ شہر میں بھی ناجائز ہے اور داڑھی کٹاتا ہے اور جوان بالغ لڑکیوں کو بے پردہ پڑھاتا ہے اس کی بنا پر جب امام پر تو بہ کا حکم آیا تو اس نے فتووں کو دیکھ کر فتووں کی تو ہین اور میری تو ہین بدتر از بول کہہ کر کی مگر جب اس کے یہ بدتر از بول کا مسئلہ لیا گیا تو وہ امام اسلام سے خارج ثابت ہوا اور اس پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم ہوا جب یہ حکم لے کر علمائے دین چکر پور تشریف لے گئے تو گاؤں والوں نے اور اس امام صاحب نے جھوٹ بول دیا پھر بھی گاؤں کے دو آدمی اب بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ امام نے فتویٰ کی توہین ضرور کی ہے گاؤں کے لوگوں نے علمائے دین کی توہین کی اور کہا کہ ہم تو اس امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور اس گاؤں کے رہنے والے صاحب خاں اور یعقوب خاں اور اسماعیل خاں نے کہا کہ اگر ہمارا امام کا فر ہے تب بھی ہمارے لئے سب سے بہتر ہے ہم تو اس کو امام بنائیں گے اور طرح طرح سے علمائے دین کی توہین کی اور برا کہا۔ اب حضور سے عرض ہے:(1) ایسے امام اور گاؤں والوں کے بارے میں کیا حکم شرع ہے؟(۲) ایسے گاؤں میں جانا اور رشتہ داری برتن وہاں کھانے پینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟(۳) ایسے گاؤں سے شادی کرنا اور شادی میں شریک ہونا کیسا ہے؟(۴) صاحب خاں اور یعقوب خاں اور اسماعیل خاں کے بارے میں کیا حکم ہے؟(۵) اور جو صاحبان اس گاؤں میں جائیں اور شادی وغیرہ کریں ان کے بارے میں کیا حکم شرع ہے؟ ان سوالوں کے لئے الگ الگ جوابات سے آگاہی فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی ۔ فقط ! المستقلانی : رئیس خان ساکن کھسیکم متصل علی منج
الجواب:(1) فی الواقع اگر امام نے فتویٰ کی اہانت سے انکار کر دیا تو اس کا یہ انکار تو بہ ورجوع قرار پائے گا۔ در مختار میں ہے: ”شهدوا على مسلم بالردة وهو منکر لا يتعرض له لا لتكذيب الشهود العدول بل لان انکاره توبة ورجوع (1) الدر المختار، ج ۶، ص۳۹۰ کتاب الجهاد باب المرتد، دار الكتب العلمية، بيروت اور اگر اس کے بعد کوئی قول و فعل اس سے منافی ایمان واسلام صادر نہ ہوا اور اس کا صلاح حال ظاہر ہے تو وہ مسلم اور لائق امامت اور اگر معاملہ برعکس ہے تو حکم برعکس اور اس کی امامت ممنوع شدید ہے اور گاؤں والوں نے اگر واقعی علماء کی توہین کی اور امام کے متعلق وہ جملہ کہا تو اُن پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے۔
اشباہ ونظائر میں ہے:
الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر (1) واللہ تعالیٰ اعلم
(۲) ان سے مراسم وتعلقات ناجائز ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(۳) ناجائز ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
( ۴، ۵ ) وہی جو گز را۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳/ ذوالحجہ ۱۴۰۰ھ