کندھوں سے نیچے بال رکھنا حرام ، رکھنے والا فاسق ہے کہ اس میں عورتوں سے مشابہت ہے جو موجب لعن ہے ! فاسق معلن کی اقتدا مکروہ تحریمی، نماز واجب الاعادہ ہے! سرکار علیہ السلام کے گیسوئے مبارک کی تفصیل !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ: ایسے امام جوسر کے بال نہ کٹواتے ہوں یعنی سر میں دو بالشت کے برابر بال ہو اور بالکل نہ کٹواتے ہوں، کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟ اور اس کو امام بنانا کیسا ہے؟ معتبر کتابوں کے حوالہ سے جواب عنایت فرمائیں۔ جواب میں مفتیان کرام کے دستخط ہوں۔ یہاں آپس ہی میں جھگڑا پھیلا ہوا ہے، جواب فوراً ہی عنایت فرمائیں ۔ کرم ہوگا! مستانی : بیسین خان فیروز آباد، آگره (یوپی)
الجواب: امام مذکور اگر کندھوں سے نیچے بال رکھتا ہے تو فاسق معلن ہے کہ اسے اتنے نیچے بال رکھنا حرام اور تشبہ زنان بحکم حدیث موجب لعن ہے۔ حدیث میں ہے: لعن الله المتشبهات من النساء بالرجال، والمتشبهين من الرجال بالنساء (1) اللہ کی لعنت ہے عورتوں سے مشابہت کرنے والوں پر۔ اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب۔ غنیہ میں فتاوی حجہ سے ہے: لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهةتحريم (۲) تبیین الحقائق میں ابن زیلعی سے ہے: لأن في تقديمه للامامة تعظيمه وقد وجب عليهم اهانته شرعاً (۳) در مختار میں ہے: ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (٢) اور اگر کندھوں تک ہیں تو اس میں حرج نہیں کہ کندھوں تک بال رکھنا جائز ہے بلکہ سنت سے ثابت ہے۔ حدیث میں حضرت عائشہ سے ہے: وكان له شعر فوق الجمة ودون الوفرة (ه) (1) فيض القدير شرح الجامع الصغير من احاديث البشير النذیر، ج۵، حرف اللام، ص ۳۴۵، دار الکتب العلمية، بيروت/صحيح البخاری، ج ۱، ص ۸۷۴ کتاب اللباس، مجلس بركات (۲) غنية المستملى شرح منية المصلى، ص ۵۱۳، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی (۳) تبيين الحقائق، ج ۱، ص ۳۴۵، کتاب الصلوة باب الامامة والحدث في الصلوة زكريا (۴) الدر المختار، ج ۲، ص ۱۴۷، ۱۴۸، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، مطبع دار الكتب العلمية، بيروت (۵) جامع الترمذی، ج ۱، ص ۲۰۸ ، باب الخضاب، مجلس بركات مرقات ملاعلی قاری میں ہے : هدا بظاهره يدل على ان شعره صلى الله عليه وسلم كان امرا متوسطاً بين الجمة والوفرة وليس بجمة ولا وفرة اذ معنى فوق الجمة ان شعره لم يصل الى محل الجمة وهو المنكب ومعنى دون الوفرة ان شعره كان انزل من شحمة الاذن ولعل ذلك باعتبار اختلاف احواله صلی الله علیه وسلم وقد جمع بينهما العراقي بان المراد من قوله فوق ودون تارة بالنسبة الى المحل وتارة النسبة الى المقدار وقوله فوق الجمة اى ارفع منها في المحل ودون الجمة اى اقل منها فى المقدار - الخ ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ (1) مرقاة المفاتيح شرح مشکوۃ المصابیح، ج ۸، ص ۳۰۰ - ۲۹۹، کتاب اللباس باب الترجل، دار الكتب العلمية، بيروت