ظہر کی سنت پڑھے بغیر فرض پڑھانا اور امام مسجد کی موجودگی میں دوسرے کی امامت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ: (۱) امام صاحب ظہر کی سنت پڑھے بغیر فرض ظہر پڑھا سکتے ہیں؟ (۲) امام صاحب مسجد میں آگئے ابھی وضو بنا رہے ہیں کہ دوسرے آدمی نے نماز پڑھانا شروع کردیا۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ نماز کا وقت مقرر ہو تو کیا حکم ہے؟ نہ مقرر ہو تو کیا حکم ہے؟
المستفتی محمد یاسین کرانہ مرچنٹ محلہ پورہ ،صوفی مبارکپور ، اعظم گڑھ (1) ظہر کی سنت قبلیہ مؤکدہ ہے، بے عذر شرعی ایک بار چھوڑ نابُرا ہے، بار بار چھوڑ دینا گناہ ہے۔لہذا بے عذر شرعی سنت سے پہلے ظہر نہ پڑھائے اور عذر ہو تو حرج نہیں۔ واللہ تعالی اعلم (۲) امام ماذون و مقر جبکہ متقی پرہیز گار جامع شرائط امامت ہے، اس کی موجودگی میں دوسرے کا امام بننا بغیر اس کی رضا کے پسندیدہ نہیں کہ یہ اغلب احوال میں لوگوں کی کراہت کا موجب ہے۔ اور اس سے قطع نظر امامت کا حق اسی مازون ومقر ر کو ہے جبکہ جامع شرائط غیر فاسق ہے۔ حدیث میں ہے: لا يو من الرجل الرجل في سلطانه (1) در مختار میں ہے: ”صاحب البيت و امام المسجد الراتب اولی بالامامة من غيره مطلقا “(۲) حدیث میں ہے: (1) الصحیح المسلم، ج ۱، ص ۲۳۶ ، باب من احق بالامامة كتاب المسجد مجلس بركات (۲) الدر المختار، ج ۲، ص ۲۹۷، کتاب الصلوۃ، باب الامامة، دار الكتب العلمية، بيروت لعن رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم ثلاثة رجل ام قوما و هم له كارهون ) تین پر اللہ کے رسول نے لعنت فرمائی ، ان میں سے ایک وہ ہے جو کسی جمات کی امامت کرے بغیر ان کی رضا کے۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۷ رذی قعدہ ۱۳۹۵ھ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم الاجوبة كلها صحيحة فقیر مصطفیٰ رضا القادری غفرلہ محمد ریحان رضا خاں رحمانی غفرلہ قاضی محم عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی صبح الجواب الا جو بہ کلہا صحیحہ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم | الجواب صحیح تحسین رضا غفرلہ ریاض احمد سیوانی غفرلہ بہاءالمصطفیٰ قادری محمد عارف احمد