نماز کے بعد دعا کی سمت اور رخ بدلنے سے متعلق شرعی مسائل
بعد سلام قبلہ سے انصراف امام سنت ہے! قبلہ رو بیٹھنا مکروہ ! قبلہ کے علاوہ جس رُخ چاہے بیٹھے خطبہ جمعہ وعیدین میں پشت بقبلہ سنت ہے ! وعظ میں بھی جائز ! غیر امام کو قبلہ رو دعامانگنا مستحب ہے ! بصورت دیگر خلاف اولیٰ لیکن دعانا جائز نہ ہوگی ! بعد نماز پنجگانہ رُخ دکھن اور پورب کے درمیان ہو کر دعا مانگنا کیسا ہے؟ حدیث و قرآن حکم دیتے ہیں کہ رُخ مغرب اور مدینہ منورہ وقت دعا ضرور ہوورنہ دعانا قابل اور ناجائز ہوگی۔
الجواب: امام مذکور ٹھیک کرتے ہیں اس لئے کہ سلام پھیرنے کے بعد امام کو قبلہ سے انصراف سنت ہے اور قبلہ رو بیٹھا رہنا مکروہ ہے اس حکم میں کسی نماز کی تخصیص نہیں نہ مقتدیوں میں کسی عدد کی تعیین اسے اتنا اختیار ہے کہ داہنے بائیں پھرے یا مقتدیوں کی طرف رُخ کر کے بیٹھے بشرطیکہ اس کے سامنے کوئی مقتدی نماز نہ پڑھتا ہو۔ خطبہ و جمعہ وعیدین وزیارت قبور میں بھی قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا سنت ہے۔ نیز وعظ میں جائز ہے۔ در مختار میں ہے: ”يستحب للامام التحول ليمين القبلة يعني يسار المصلى لتنفل او ورد و خیره في المنية بين تحويله يمينا وشمالا و اماما و خلفا و ذهابه لبيته واستقباله الناس بوجهه ولو دون عشرة ما لم يكن بحذائه مصل ولو بعيداً على المذهب“ طحطاوی ورد المحتار میں ہے: ”و من السنة ان يستقبل الناس بوجهه ويستدبر القبلة لأن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم كان يخطب هكذا“ طحطاوی میں ہے: ”قال في الاحياء والمستحب في زيارة القبور ان يقف مستدبر القبلة مستقبلا وجه الميت-الخ جہت قبلہ ہر جگہ افضل ہے مگر امام کو بعد سلام قبلہ رو بیٹھا رہنا مکروہ ہے۔ غیر امام کوقبلہ رودعامانگنا مستحب ہے۔ ایسا نہ کرے گا تو خلاف اولیٰ ہو گا مگر اس سے دعانا جائز نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (۱) الدر المختار ج ۲ ص ۲۴۸ کتاب الصلوة باب صفة الصلوة، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) رد المحتار، ج ۳، ص ۲۱ ، كتاب الصلوة ، باب ،الجمعة، مطلب في قول الخطيب، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) الطحطاوي على مراقی الفلاح شرح نور الايضاح كتاب الصلوة فصل في زيارة القبور، ص ۱۲۱ ، دار الكتب العلمية ، بيروت