نابالغ کی امامت، بلوغ کی عمر اور نس بندی کروانے والے کی امامت کا شرعی حکم
(4) کیا نا بالغ حافظ نماز تراویح کا پیش امام ہو سکتا ہے یا نہیں؟ (۵) کیا اجرت لے کر نس بندی کرانے والا پیش امام بنایا جا سکتا ہے؟ ایسا شخص میت کو غسل دے سکتا ہے؟
الجواب: (1) نصف کلائی تک یا اس سے اوپر تک آستین سمیٹنا مکروہ تحریمی ہے۔ حلیہ میں ہے: ينبغى أن يكره تشمير هما الى ما فوق نصف الساعد لصدق كف الثوب على هذا (1) امام مذکورا گر نصف کلائی سے کم سمیٹتا ہے تو نماز میں کراہت نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بلوغ کی عمر زیادہ سے زیادہ ۱۵ ارسال ہے اگر کسی علاقہ سے انزال وغیرہ سے بلوغ نہ ہو تو اس عمر پر بالغ ہو جائے گا اور وہ تراویح کی امامت کر سکے گا جبکہ لائق امامت ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) تراویح کے لئے امام بالغ متقی پرہیز گار لائق امامت ضروری ہے۔ وہی خصوصیت تراویح کے امام کے لئے بھی درکار ہے جو اور نمازوں کے ائمہ کے لئے چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نہیں کہ نابالغ کی اقتد افرض و نفل کسی میں صحیح نہیں ۔ یہی اصح وارج واقوئی ۔ ہدایہ میں ہے: بحرالرائق میں ہے: والمختارانه لا يجوز في الصلوة كلها (٢) وهو قول العامة كما في المحيط وهو ظاهر الرواية (۳) والله تعالى اعلم (۵) نسبندی شرعاً حرام ہے اور اس کا مرتکب سخت فاسق اور فاسق کو امام بنانا گناہ۔ (1) حلبة المجلى وبغية المهتدى في شرح منية المصلى وغنية المبتدى في الفقه الحنفی، فصل فيما يكره فعله في الصلوة وما لا يكره، ج ۲، ص ۲۸۷ ، دار الكتب العلمية بيروت (۲) هدایه اولین کتاب الصلوة باب الامامة، ص ١٢٤ ، مكتبة رحيمية (۳) البحر الرائق، ج ا كتاب الامامة فصل اقتداء رجل بامرأة او صبي في الصلوة، ص ۳۸۱، دار الكتاب الاسلامي غنیہ میں ہے: ،، لوقدموافاسقاياثمون (1) اور اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب ہے۔ در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) اور غسل میت کو وہ دے سکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی