نوافل وسنن (تراویح، استسقاء، کسوف وغیرہ) کی جماعت کا ثبوت
تراویح کی جماعت سرکار علیہ السلام سے ثابت نہیں! عاشورہ واستنقا میں بھی جماعت نہیں اصلوۃ الکسوف میں جماعت مسنون ہے لیکن خسوف میں جماعت نہیں! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ: کیا بادی انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وبارک وسلم نے نوافل وسنن مثلاً تراویح استسقاء،کسوف، وخسوف، عاشوره شبینہ وغیرہ باجماعت ادافرمائی ہیں؟ اور کتنی کتنی رکعات؟
سئله - ۲۵۷ تراویح کی جماعت سرکار علیہ السلام سے ثابت نہیں! عاشورہ واستنقا میں بھی جماعت نہیں اصلوۃ الکسوف میں جماعت مسنون ہے لیکن خسوف میں جماعت نہیں! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ: کیا بادی انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وبارک وسلم نے نوافل وسنن مثلاً تراویح استسقاء،کسوف، وخسوف، عاشوره شبینہ وغیرہ باجماعت ادافرمائی ہیں؟ اور کتنی کتنی رکعات؟ الجواب: المستفتی محمد مختار قادری نعیمی اکرمی معرفت محمد سرور میاں خاں قادری رضوی خطیب جامع مسجد ، بھوپال سنج، بھیلواڑہ ( راجستھان) تراویح میں سرکار علیہ السلام کا جماعت کرنا ثابت نہیں یونہی عاشورہ وغیرہ میں استسقاء میں جماعت ثابت نہیں ۔ کسوف میں جماعت فرمانا ثابت ہے اس لئے کسوف میں جماعت مسنون ہے اور خسوف میں ہمارے نزدیک ثابت نہیں۔ لہذا تنہا پڑھنے کا حکم ہے۔ مجمع الانہر منتقی الا بحر میں ہے: ” یصلی امام الجمعة بالناس عند كسوف الشمس لما روى ان النبي عليه الصلوة والسلام صلى في كسوف الشمس بالناس و دعاحتی انجلت) نیز ملتقی و مجمع میں ہے: فان لم يحضر الامام صلوا فی مساجدهم فرادی رکعتین او اربعاً كالخسوف كما يصلون في خسوف القمر فرادى بلا جماعة يتعذر الاجتماع بالليل او لخوف الفتنة وقيل الجماعة جائزة فيه عندنا لكنها ليست بسنة وقال الشافعي تسن الجماعة للخسوف کمافی الکسوف_ملخصاً (۲) نیز منتقی الا بحر میں ہے : " لا صلوة بجماعة في الاستسقاء (۳) اس کی شرح مجمع الانہر میں ہے: "ليس فيه صلوة مسنونة في جماعةعندالامام لانه عليه الصلوة والسلام استسقى ولم يرو عنه الصلوة کمافی الهداية “(۲) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ