قواعد تجوید کی رعایت، شرائط امامت اور بعض معاشرتی برائیوں کا حکم
(1) نماز میں وقف و وصل، تشدید، مد، جزم وغیرہ کی ادائیگی اور نماز باجماعت کی پابندی کا لحاظ نہ
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ قواعد تجوید کی رعایت ضروری ہے! جو تجوید کے قواعد ضروریہ کی رعایت نہیں کرتے، لائق امامت نہیں ! بے عذر شرعی تارک جماعت کی امامت ممنوع ! بالغ لڑکیوں کو بے پردہ پڑھانا گناہ ہے! ہوٹلوں میں خصوصا اسڑکوں پہ کھڑے ہو کر کھانا مذموم ہے! اختلاط بدمذ یہاں سخت حرام ! روزی غیر پر دست درازی ظلم ہے! امامت کے لئے سند ضروری نہیں ! (1) نماز میں وقف و وصل، تشدید، مد، جزم وغیرہ کی ادائیگی اور نماز باجماعت کی پابندی کا لحاظ نہ رکھنے والا ، ٹوپی سے امامت کرنے والا ، بالغ لڑکیوں کو پڑھانے والا، ہوٹلوں اور سڑکوں پر کھانے پینے والا ، باغیان رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وبارک وسلم سے خلط ملط رکھنے والا اور دوسروں کی روزی پر دست درازی کرنے والا مستحق امامت ہے یا نہیں؟ (۲) امامت کے لئے کیا کوئی شرعی سند اور امام کا بہت بلند آواز ہونا ضروری ہے؟ الجواب: المستفتی محمد مختار قادری نعیمی اکرمی معرفت محمد سر در میاں خاں قادری رضوی خطیب جامع مسجد ، بھوپال سنج ، بھیلواڑہ ( راجستھان) (1) تجوید کے قواعد ضرور یہ (جن کی عدم مراعات سے لحن جلی ہو ) کی مراعات ضروری ہے اور وہ شخص جو ان کی مراعات نہیں کرتا ، لائق امامت نہیں ہے۔ اور جو بے عذر شرعی جماعت چھوڑے وہ بھی امامت سے ممنوع ہے اور بالغ لڑکیوں کو بے پردہ پڑھانا بھی گناہ ہے اور ہوٹلوں میں بے ضرورت کھانا بھی منع ہے اور سڑکوں پر خصوصا کھڑے کھڑے کھانا سخت مذموم ہے اور وہابیوں سے خلط ملط سخت حرام بد کام بدانجام ہے اور کسی کی روزی پر دست درازی ظلم ہے اور جس پر یہ امور شرعاً ثابت ہیں وہ امامت کے لائق نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم (۲) نہیں۔ ہاں شرائط امامت کا جامع ہونا ضروری ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم