وصل کی جگہ وقف، وقف کی جگہ وصل کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید ایک عالم بھی ہے اور امام بھی تو وہ قرآن مجید کی ہر سورۃ کا معنی ومطلب سمجھ کر پڑھتا ہے اور ہر آیت پر ٹھہرتا ہے تو اس کا ہر آیت پر ٹھہر نا اگر معنی میں کوئی فساد نہ ہو تیج ہے یا نہیں۔ المستفتی : عبدالسلام رضوی مرشد آبادی
الجواب: صورت مسئولہ میں نماز بے دغدغہ صحیح ہے کہ وقف کی غلطی یعنی وقف کی جگہ وصل، وصل کی جگہ وقف کرنے سے اصلا نماز فاسد نہیں ہوتی اگر چہ وقف لازم پر نہ ٹھہرے۔ غنیہ شرح منیہ علامہ حلبی میں ہے: اما الوقف في غير موضعه والابتداء من غير موضعه فلا يوجب ذالک فساد الصلوة عند عامةعلمائنا ملخصاً) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) غنية المستملى شرح منية المصلى، فصل فی بیان احکام زلة القاری ، ص ۱۸۰ ، سهیل اکیڈمی لاھور