امام کیسا ہو؟ بارہ سال کا لڑکا لائق امامت ہے کہ نہیں؟ مدت بلوغ کیا ہے؟ فاسق و فاجر کے پیچھے نماز کا حکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ: (1) امام بننے کے لئے کیا کیا چیزیں امام میں ہونی چاہئے؟ یعنی امامت کے کیا کیا شرائط ہیں؟ (۲) کیا بارہ سال کا لڑکا امامت کر سکتا ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی حرج تو واقع نہ ہوگا؟ (۳) عرفانِ شریعت میں جو ۱۲ سال کی بلوغت لڑکے کے لئے درج ہے وہ نماز کے لئے ہے کہ اس پر اس عمر میں نماز فرض ہو جاتی ہے، یا امامت کے لئے کہ لڑکا اس عمر کو پہنچ کر امامت کر سکتا ہے؟ (۴) کیا ۱۲ سال کے لڑکے کے پیچھے فرض نماز ادا کر سکتے ہیں؟ (۵) کیا فاسق اور فاجر کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے؟
الجواب: (1) سنی صحیح العقیدہ صحیح الطبارة صحیح القرآن واقف مسائل طہارت و نماز ، غیر فاسق معلن ہونا امام کو ضروری ہے۔ (۲) بارہ سال کا لڑکا اگر اپنا بالغ ہونا ظاہر کرے تو اسے بالغ مانیں گے جبکہ وہ ایسی حالت پر ہو کہ اس جیسا عام طور پر اس عمر میں بالغ ہو جاتا ہے۔ در مختار میں ہے: وادنی مدته له اثنتا عشرة سنة ولها تسع سنین هو المختار کما فی احکام الصغار فان راهقا بأن بلغا هذا السن فقالا بلغنا صدقا ان لم يكذبهما الظاهر وهو ان يكون بحال يحتلم مثله والایقبل قوله شرح وهبانية ملخصاً) لہذا صورت مسئولہ میں بارہ برس کا لڑکا بشرط مذکور لائق امامت ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴،۳) جواب گزرا۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۵) فاسق معلن کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے اور اس کی اقتدا میں نماز واجب الاعادہ ہوگی ۔ در مختار وغنیة (1) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ