نسب میں طعن، سادات کی توہین اور بد زبان امام کی امامت کا شرعی حکم
مفتیان کرام! السلام علیکم۔ کچھ ضروری باتیں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور امید ہے کہ آپ حدیث کے حوالے سے جواب دیں گے! (1) جو مولوی کو نہ مانے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) جو مولوی ممبر پر جا کر خنزیر کا نام لے اور لوگوں کو خنزیر بنادے اور برے الفاظ منہ سے نکالے۔ اس کے لئے کیا حکم ہے؟ (۳) جس بستی میں سید کی اولاد ہو اور امامت کے لائق بھی ہو، پڑھی لکھی ہو تو دوسری قوم کے پیچھے ان کا نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ جو مولوی سید کا نام سن کر چڑھتا ہے اور اپنے کو بڑا سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ سید کون ہے؟ سب مسلمان ایک سے ہیں اور کہتا ہے کہ سید کیا خدا کے یہاں سے بن کر آیا ہے بلکہ وہ بہت برا سمجھتا ہے اور گری ہوئی نظر سے دیکھتا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ مذکورہ بالا سوالات کے جوابات ارشاد فرمائیں۔ المستفتی: محمد غفار ماسٹر
نسب میں طعن کرنا نا جائز ، حدیث میں اسے خصلت کفر بتایا! اپنے آپ کو جو جیسا بتائے میں طعن جا یہی حدیث بتایا اپنے کو جوجیتا تائے ماننا ضروری ہے ! سید کی تعظیم لازم اور اہانت حرام ہے! بے وجہ کسی کو گالی دینے والے کی امامت مکروہ تحریمی، ایسوں کے پیچھے نماز واجب الاعادہ ہے! جامع شرائط امام کی اقتد الازم ہے! جامع شرائط امام کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عالم فاضل آجائے ، بغیر اجازت امامت نہیں کر سکتا ! الجواب: بے ثبوت شرعی کسی کے نسب میں طعن کرنا نا جائز ہے۔ حدیث میں اسے کفر کی خصلت بتا یا اور لوگ اپنے انساب پر مامون ہیں جب تک ثبوت شرعی سے خلاف ظاہر نہ ہو جو اپنے کو جیسا بتائے ویسا ماننا ضرور ہے اور سید کی تعظیم لازم ہے اور اہانت حرام بدکام بدانجام ہے اور اس کے مرتکب کے پیچھے اور جو کسی کے نسب میں بے وجہ شرعی طعن کرے اس کے پیچھے نماز پڑھنا گناہ اور پھیر نی واجب ہے۔ غنیہ میں ہے: در مختار میں ہے: لوقدموافاسقاياثمون)،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۲) اور یہی حکم بے وجہ شرعی لوگوں کو خنزیر کہنے والے یا گالی دینے والے کا ہے اور امام ماذون جامع شرائط کی اقتدا اس کو لازم ہے اس کی موجودگی میں کوئی بھی عالی نسب عالم عادل فاضل آجائے تو بغیر اس کی مرضی کے اسے امامت کرنا منع ہے۔ حدیث میں ہے: "لا يو من الرجل الرجل فی سلطانه (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲ ذی قعده ۱۳۹۶ھ