حرمین شریفین کے اماموں کے عقائد اور غیر مقلدین کے پیچھے نماز کا حکم
حرمین شریفین میں مجدی حکومت کا تسلط ہے، امام بھی اپنے اعتبار سے مقرر کرتی ہے، اغلب یہی ہے کہ وہابیہ کو مقرر کرتی ہے، رہا یہ غیر مقلد ہیں ، جو کسی ایک امام کی تقلید نہ کرے وہ غیر مقلد ہے، غیر مقلدین عوام اہل سنت کے رہزن اور ائمہ دین کے دشمن ہیں، ان کا ضال مضل، غوی مبطل ہونا انتہائی جلی واظہر ہے، یہ دیگر فرق باطلہ سے زیادہ مضر ہیں، حضرت عبد اللہ بن عمر نے انہیں بدترین مخلوق بتایا، یہ جو آیتیں کافروں کے بارے میں ہیں انہیں مسلمانوں پر منطبق کرتے ہیں، علامہ طاہر نے ان کے حق میں بددعا کی ، ان کا گمان باطل یہ ہے کہ ہم ہی مسلمان ہیں باقی سب مشرک، ان کے پیچھے نماز ممنوع! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مدظلہم العالی مسائل مندرجہ کے بارے میں کہ: (1) حرمین شریفین کے امام صاحبان کس مسلک کے ہیں؟ یعنی چاروں اماموں میں سے کسی بھی امام کی تقلید کرتے ہیں یا نہیں؟ (۲) اگر کوئی شخص چاروں اماموں میں سے کسی بھی امام کی تقلید نہیں کرتا بلکہ تقلید کوحرام سمجھتا ہے اور براہِ راست قرآن وحدیث پر عمل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، ایسا آدمی امام ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ براہ مہربانی مفصل و مدلل جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں اور عند الناس مشکور ہوں ۔ فقط ! والسلام عليكم وعلى من لديكم المستفتی بمیرمحمد خلیل ، مدرسه اشرف العلوم (رمضانیه ) موضع فقیر آباد، ڈاکخانہ کیند رو پاڑہ ضلع کٹک (اڑیسہ)
الجواب: (1) حرمین شریفین پر موجودہ مجدی حکومت کا تسلط ہے۔ وہ اپنی رائے سے امام مقرر کرتی ہے۔ اغلب یہی ہے کہ وہ وہابیہ کو امام مقرر کرتی ہے بلکہ یہی متیقن ہے اور وہابیہ بد مذہب ہیں، وہ تقلید کے قائل نہیں ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ایسا شخص غیر مقلد ہے اور فرقہ غیر مقلدین کہ تقلید ائمہ دین کے دشمن اور بیچارہ عوام اہل سنت کے رہزن ہیں۔ مذاہب اربعہ کو چوراہا بنا ئیں ائمہ ہدیٰ کو احبار و رہبان (یعنی یہودی و نصرانیوں کے پادری) ٹھہرائیں، سچے مسلمانوں کو کافر و مشرک بنا ئیں، قرآن وحدیث کی آپ سمجھ رکھنا ارشادات ائمہ کو جانچنا پرکھنا ہر عامی جاہل کا کام نہیں۔ ان کا بدعتی، بد مذہب ، گمراہ، بے ادب، ضال مضل ،غوی ومبطل ہونا نہایت جلی واظہر بلکہ عند الانصاف یہ طائفہ تالفہ بہت فرق اہل بدعت سے اشد واضر صحیح بخاری میں تعلیقاً اور شرح السنتہ امام بغوی و تہذیب الآثار امام طبری میں موصولاً وارد: و كان ابن عمر يراهم شرار خلق الله وقال انهم انطلقوا الى آيات نزلت في الكفار فجعلوها على المؤمنين (1) یعنی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما خوارج کو بدترین خلق اللہ جانتے کہ انہوں نے وہ آیتیں جو کافروں کے حق میں اتریں اُٹھا کر مسلمانوں پر رکھ دیں۔ بعینہ یہی حالت ان حضرات کی ہے۔ آیت کریمہ: اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ (۲) کہ کفار اہل کتاب اور ان کے عمائد وار باب میں اتری، ہمیشہ یہ بے باک لوگ اہل سنت وائمہ اہل سنت کو اس کا مصداق بناتے ہیں، علامہ طاہر پر رحمت غافر کہ مجمع بحار الانوار میں قول ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نقل کر کے فرماتے ہیں: قال المذنب تاب الله عليه واشر منهم من يجعل آيات في اشرار اليهود على علماء الامة المعصومة المرحومة طهر الله الارض عن رجسه (۳) یعنی ان خارجیوں سے بدتر وہ لوگ ہیں کہ شرار یہود کے حق میں جو آیتیں اتریں انہیں امت محفوظہ مرحومہ کے علماء پر ڈھالتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ زمین کو ان کی خباثت سے پاک کرے ( آمین ) اصل اس گروہ ناحق کی مسجد سے نکلی ۔ حاصل ان کے عقائد زائغہ کا یہ ہے کہ عالم میں وہی مشت بھر ذلیل موحد مسلمان ہیں باقی تمام مؤمنین معاذ اللہ مشرک۔ ان کے عقائد فاسدہ کی تفصی رسالہ مبارکہ انہی الاكيد عن الصلاة وراء عدى التقليد میں ملے گی۔ ان کو امام بنانا گناہ اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا سخت منع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۶ رذوالحجہ ۱۳۹۷ھ