اغلام بازی فسق ہے! اغلام باز کو امام بنانا گناہ، اس کی افتد امکروہ تحریمی، نماز واجب الاعادہ، اذان مکروہ و نا معتبر ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید نے بکر کے ساتھ اغلام بازی دوبار کی ۔ کیا ایسے شخص کی اذان واقامت درست ہے؟ یا نہیں؟ اور اس کے ہاتھ کے بھرے ہوئے پانی سے وضو کرنا اور پینا جائز ہے یا نہیں؟ عند الشرع اس کے بارے
مسئله - ۲۴۷ اغلام بازی فسق ہے! اغلام باز کو امام بنانا گناہ، اس کی افتد امکروہ تحریمی، نماز واجب الاعادہ، اذان مکروہ و نا معتبر ۔ خوف فتنہ نہ ہو تو اذ ان لوٹائی جائے البتہ اس کے بھرے ہوئے پانی سے وضو جائز ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید نے بکر کے ساتھ اغلام بازی دوبار کی ۔ کیا ایسے شخص کی اذان واقامت درست ہے؟ یا نہیں؟ اور اس کے ہاتھ کے بھرے ہوئے پانی سے وضو کرنا اور پینا جائز ہے یا نہیں؟ عند الشرع اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرما ئیں ۔ المستفتی :محمدخلیل الرحمن رضوی مدرسه منظر اسلام سوداگران بریلی شریف الجواب: زید کا جرم اگر شرعی طور پر ثابت و مشتہر ہے تو وہ فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب ہے اور اذان اسکی مکروہ و نامعتبر ہے اگر فتنہ کا خوف نہ ہو تو اس کا اعادہ کیا جائے۔ غنیہ میں ہے: ”لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم “(1) در مختار میں ہے: ”كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) اسی میں ہے: ”جزم المصنف بعدم صحة اذان مجنون و معتوه وصبى لا يعقل قلت وكافر وفاسق لعدم قبول قوله في الديانات - اھ (۳) واللہ تعالیٰ اعلم اور وضو وغیرہ اس کے بھرے ہوئے پانی سے جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله