مسافر امام کی اقتدا، قصر و اتمام کے متضاد اقوال اور مقتدیوں کی نماز کا حکم
ہوں اس لئے میں قصر پڑھوں گا اب کیا حکم ہے؟ زید کے متضاد قول و فعل پر اور جن جن لوگوں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی وہ ہوئی یا نہیں؟ احکام شرع سے آگاہ فرما ئیں ۔ المستفتى : علاؤالدین ، گل منڈی بھیلواڑی ( راجستھان)
الجواب: (1) بر تقدیر صدق سوال زید کا یہ کہنا محض تعسف ہے اسے مطابق شرع عمل ضروری ہے اور حکم شرع سن کر ہٹ چھوڑ نالازم ہے۔ اگر شرعاً اس کا یہ قول ثابت ہے تو وہ سخت فاسق ہے اس کی اقتدا سے پر ہیز ضروری ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) فی الواقع اگر زید مسافر تھا جیسا کہ اس کے اقرار سے ظاہر ہے یعنی اس جگہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ تھی تو اسے قصر پڑھنا لازم تھا کہ اس کا فرض اس صورت میں دو رکعت ہی تھا وہ چار پڑھے گا، گناہگار ہوگا اور از انجا کہ دورکعت اخیرہ میں وہ محض متنفل تھا تو مقتدیوں کی نماز اس کے پیچھے نہ ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۴ رصفر المظفر ۱۴۰۴ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی