تنہا عشاء پڑھنے والے کا جماعت وتر میں شریک ہونا اور جماعت کے وجوب کا بیان
سوال
علما ئے کرام کیا فرماتے ہیں کہ: ایک شخص پیش امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا ہے مگر ماہ رمضان المبارک میں تراویح کے لئے حافظ رکھا جاتا ہے اس کے پیچھے جماعت کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ ایسی حالت میں وتر بھی جماعت کے ساتھ پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ وتر بھی حافظ جی ہی پڑھاتے ہیں، فرض نماز پیش امام پڑھاتے ہیں۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
صورت مسئولہ میں وہ شخص جبکہ فرض عشاء میں شریک نہیں ، تنہا پڑھ لیتا ہے، وتر میں شریک نہیں ہوسکتا ہے، جماعت ہر مرد عاقل حر پر واجب ہے، بلا عذر چھوڑنے والا گنہگار اور سخت سزا کا سزاوار ہے۔ شخص مذکورہ اگر بلا عذر شرعی جماعت چھوڑتا ہے تو تو بہ کرے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَبِيَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا . اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے ۔ (۱)
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۳۳۴–۳۳۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بے وجہ شرعی مسجد کی حاضری چھوڑ نا سخت گناہ ، وبال عظیم کا موجب ہے ابے وجہ شرعی کسی کو برا کہنا، مارنا سخت گناہ ظلم و جفا ہے!
باب: کتاب الصلوٰۃ
ناف کے نیچے ہاتھ نہ باندھنے، دوران قرات بدن کی حرکت اور مسافر کے مکمل نماز پڑھانے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
مسجد کے ستونوں (دروں) کے درمیان صف بندی کرنے کی ممانعت
باب: کتاب الصلوٰۃ
مسافر امام کی اقتدا، قصر و اتمام کے متضاد اقوال اور مقتدیوں کی نماز کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
غیر متشرع حفاظ سے شبینہ پڑھوانا، فاسق کی اقتدا اور نفل باجماعت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ