مسجد کے ستونوں (دروں) کے درمیان صف بندی کرنے کی ممانعت
سوال
دروں کے درمیان صف بندی کرنا قطع صف ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ : مسجد میں دروں (پلر وں ) کے درمیان صف بندی کرنا کیسا ہے جبکہ مسجد میں کافی جگہ خالی ہو۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: یہ قطع صف ہے اور قطع صف ممنوع ہے جس پر حدیث میں وعید آئی : (1) من قطع صفا قطعه الله (1) جو صف قطع کرے اللہ تعالیٰ اسے منقطع فرماتا ہے لہذا اس سے احتراز کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله المستدرك على الصحيحين، ج ۱، ص ۳۳۳، کتاب الصلوة من كتاب الامامة والصلوة الجمعة، دار الكتب العلمية بيروت
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۳۳۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
غیر متشرع حفاظ سے شبینہ پڑھوانا، فاسق کی اقتدا اور نفل باجماعت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
بے وجہ شرعی مسجد کی حاضری چھوڑ نا سخت گناہ ، وبال عظیم کا موجب ہے ابے وجہ شرعی کسی کو برا کہنا، مارنا سخت گناہ ظلم و جفا ہے!
باب: کتاب الصلوٰۃ
جماعت میں بلا وجہ تاخیر کرنے کا حکم اور نماز کے اوقات مقرر کرنے کی شرعی حیثیت
باب: کتاب الصلوٰۃ
تنہا عشاء پڑھنے والے کا جماعت وتر میں شریک ہونا اور جماعت کے وجوب کا بیان
باب: کتاب الصلوٰۃ
تراویح ، عاشورہ ، استسقی میں سرکار دو عالم سلام سے جماعت کرنا ثابت نہیں ! عند الاحناف خسوف میں بھی جماعت نہیں! کسوف میں جماعت فرمانا ثابت ہے!
باب: کتاب الصلوٰۃ