غیر متشرع حفاظ سے شبینہ پڑھوانا، فاسق کی اقتدا اور نفل باجماعت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: عمر و حافظ قاری اور مستند عالم ہے، امام ہے اپنی مسجد میں سالانہ شبینہ کا التزام کرتا ہے اور غیر متشرع حفاظ کو بھی شبینہ میں قرآن پڑھنے کا موقع دیتا ہے تو جولوگ غیر صالح ونا اہل امام کی اقتدا سے اجتناب برتتے ہوئے باوضو بلا نیست اقتدا کئے خاموش بیٹھ کر قرآن سنتے ہوں تو وہ کسی ثواب کے مستحق ہوں گے یا نہیں یا وہ بھی گنہگار ہوں گے؟ نیز عمر و جو متشرع افراد کو فساق کی اقتدا کرنے سے منع نہیں کرتا تو اس پر بھی شرعاً کوئی الزام عائد ہوتا ہے یا نہیں؟ نیز بشیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو لوگ بغیر نیت باندھے بیٹھے ہوئے قرآن سنتے ہیں وہ سب منافق ہیں اور یہ علامت نفاق ہے تو کیا بشیر کا یہ قول واقعتا صحیح و درست ہے؟ اور بکر کا کہنا کہ حافظ امام فاسق معلن ہیں اور یہ نماز نفل با جماعت عظیم کس حد تک درست ہے؟ تو کیا نماز نفل کثیر جماعت کے ساتھ احناف کے نزدیک ادا کی جاسکتی ہے؟ مع حوالہ کتاب جواب عنایت فرمایا
جائے۔ جبکہ حافظ امام صاحبان اپنی مساجد میں پوری تراویح کر کے آئے ہوں۔ المستفتی : قربان علی رضوی بیسلپوری مرتب : حافظ عبدالحمید الجواب: في الواقع ( بر تقدیر صدق سوال) عمر و اگر غیر متشرع حفاظ کو بلاتا ہے اور ان کی اقتدا میں نماز پڑھواتا ہے تو سخت گنہگار ہے اور اس پر اپنا اور ان مقتدیوں کے گناہوں کا بار ہے کہ نہ یہ بلاتا اور نہ وہ پڑھتے ، اس پر تو بہ لازم ہے۔ جو لوگ اقتدا نہیں کرتے سماع قرآن کی غرض سے بیٹھے رہتے ہیں۔ اگر منع کرنے پر قادر نہیں اور نکلنے میں خوف فتنہ ہے تو ان پر الزام نہیں اور انہیں ثواب سماع قرآن ملے گا۔ مگر خاص اس جگہ نہ بیٹھیں بلکہ ہٹ کر گوشے میں بیٹھیں جس نے انہیں منافق کہا اس پر تو بہ لازم ہے نفل نماز مذہب حنفی میں تداعی کے ساتھ مکروہ تنزیہی ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ الجواب صحیح تحسین رضا الغفرله