جماعت میں بلا وجہ تاخیر کرنے کا حکم اور نماز کے اوقات مقرر کرنے کی شرعی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: قصداً جماعت میں تاخیر کرنے کا کیا حکم ہے؟ اسی بنا پر کہ میں نوکر نہیں ہوں جبکہ مسجد کی طرف سے تنخواہ بھی لیتے ہیں اور بار بار قرآن کا حوالہ دے کر یہ کہنا کہ ہمارے اسلاف نے ایسا نہیں کیا، ہمارے اسلاف جب چاہتے تھے جماعت کرتے تھے، مقتدیوں کا بیٹھے رہنا کب تک درست ہے؟ جبکہ انہیں اپنی ضرورت بھی پوری کرنی ہوتی ہے۔ جماعت کے لئے وقت مقرر کرنا حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟
الجواب: بے وجہ تاخیر کرنا جائز نہیں ہے کہ نماز میں تساہل ہے اور یہ منافقوں کی صفت ہے۔ قال تعالى : وَاِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلوةِ قَامُوا كُسَالَى )) اور انتظار کی کوئی حد شرعاً مقر ر نہیں ہے۔ اس باب میں اذان کے بعد جتنی دیر تک انتظار کرتے ہیں اتنے وقفہ سے بہت زیادہ تاخیر کہ مقتدیوں کے لئے دشوار ہو جائے نہیں۔ اور قلیل تاخیر کے لائق احتمال ہو اس میں حرج نہیں اور اس پر اعتراض بھی نہ چاہئے ۔ جماعت کے لئے وقت مقرر کرنے کے بابت حدیث میری نظر میں نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله