نسبندی کرانے والے شخص کے صف میں کھڑے ہونے اور امام کو لقمہ دینے کا حکم
نسبندی کیا ہوا شخص اگلی صف میں کھڑا ہوسکتا ہے؟ امام کو لقمہ دے سکتا ہے؟ بلا ضرورت لقمہ دینا لینا مفسد نماز ہے! (۱) نسبندی کیا ہوا شخص امام کے پیچھے اگلی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے یا نہیں؟ (۲) امام کو لقمہ دے سکتا ہے یا نہیں اور اسکی گواہی شہادت شرعیہ ہوگی یا نہیں؟ مندرجہ ذیل سوالات کا جواب قرآن و حدیث اور فقہائے کرام کے اقوال کی روشنی میں عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں فقط ۔ احمد المستفتی جمیل احمد، متعلم مدرسه خفیہ خوشی کا انپور
الجواب: (1) کھڑا ہوسکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) لقمہ کی ضرورت ہو تو لقمہ دے اور اس کا ایسا لقمہ لینے سے نماز فاسد نہ ہوگی اور بے ضرورت لقمہ دینا ہر شخص کے حق میں مفسد نماز ہے اور امام اگر بے ضرورت لقمہ لے گا تو کسی کی نما نہ ہوگی اور ایسے سوالات کا منشا عوام کا یہ خیال ہے کہ نسبندی کرانے والا معاذ اللہ مرد نہیں ہوتا یہ خیال غلط ہے نسبندی کرانا حرام ہے مگر اس کا مرتکب عورت یا خنثی نہیں ہو جاتا۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله