مسجد میں جگہ مخصوص کرنے اور اس میں امام کی معاونت کا شرعی حکم
اس کے کہنے کے مطابق چلتا ہے اور مسجد میں پہلی صف میں مؤذن کے بازو میں نماز پڑھنے کی ہی ضد رکھتا ہے اگر اس کے پہلے کوئی آکر اس جگہ پر بیٹھ جائے تو اسے ہٹا دیتا ہے جمعہ میں بھی دیری سے آتا ہے تو موذن اس کیلئے جگہ گھیر کر تولیہ بچھا دیتا ہے اگر کوئی بیٹھ گیا تو اسے ہٹایا جاتا ہے اور اس میں پیش امام صاحب کا بھی پورا پورا اس کا ساتھ ہے اس گاؤں میں یوپی ۔ اجین ۔ راجستھان علاقوں کے کچھ مسلم لوگ بستے ہیں جو اپنا کاروبار کرتے ہیں انہیں کہا جاتا ہے تم لوگ باہر کے ہو اس لئے تمہیں آگے کی صف میں کہیں نہیں بیٹھنا چاہئے یہ یہاں والوں کا حق ہے تم لوگ باہر کے لوگ ہو اس وجہ سے پیچھے کی صف میں نماز پڑھا کرو کیونکہ تم لوگ آگے کی صف میں کھڑے ہوتے ہو تو ہماری نماز نہیں ہوتی اس میں یہاں کے پیش امام کا پورا پورا اس کا ساتھ ہے۔ اگر کوئی اس سے جواب طلب کرتا یا اس سے الجھتا ہے تو یہ لوگ اس سے سلام کلام بھی بند کر دیتے ہیں امام بھی اس کے کہنے پر سلام کا جواب تک نہیں دیتا ہے اس لئے اس حقیقت کا ہمارے علمائے دین کا کیا فیصلہ ہے اور ہمارے لئے حکم کیا ہے؟ ایسے خصومت خور اور ادھر کی اُدھر لگانے والے امام کیلئے ہمارے علمائے دین کیا فیصلہ دیتے ہیں کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟ کیا اس کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے ہمارے علمائے دین کیا فرماتے ہیں؟
الجواب: مسجد میں کوئی جگہ متعین کرنا ممنوع ہے بلکہ جہاں جگہ ملے بیٹھ جائے اور بلا وجہ شرعی کسی کو اسکی شست سے ہٹا ناظلم و ایذ او گناہ ہے جس میں امام کو ساتھ دینا حرام و گناہ اور ایسا امام جو ممنوعات میں محمدو معاون ہو لائق امامت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله شب ۲۶ / جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی